اسلام آباد میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کو جمعرات کے روز آگاہ کیا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے فنڈز میں درجنوں سرکاری افسران اور بیوروکریٹس نے خورد برد کی ہے۔
یہ فنڈز اصل مستحقین کے لیے مختص تھے، تاہم کئی افسران، پنشنرز اور حتیٰ کہ ان کے اہلِ خانہ نے بھی غیر قانونی طور پر اس سے فائدہ اٹھایا۔ یہ انکشاف روزنامہ دی نیوز نے رپورٹ کیا۔
اجلاس کی صدارت معین عامر پیرزادہ نے کی، جس میں غربت مٹاؤ اور سماجی تحفظ ڈویژن، بی آئی ایس پی اور پاکستان بیت المال کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گریڈ 17 سے 22 تک کے سرکاری افسران غیر قانونی طور پر اس پروگرام سے رقوم وصول کرتے رہے۔
بی آئی ایس پی کے سیکریٹری نے بتایا کہ مختلف محکموں کے افسران اس میں شامل ہیں اور ادارے کے پاس وصول شدہ رقوم کی واپسی کے لیے کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 20 گریڈ کے 85 افسران اور 19 گریڈ کے 630 افسران سمیت کئی اعلیٰ افسران بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جبکہ گریڈ 22 کے افسران بھی اس اسکینڈل کا حصہ پائے گئے، جن کی اکثریت صوبائی کیڈرز سے ہے۔
کمیٹی کے ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آج تک ریکوری کا کوئی طریقہ کیوں وضع نہیں کیا گیا۔ ایک رکن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “کیا انہیں محض سات ہزار روپے ہڑپ کرنے پر شرم نہیں آتی؟”
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ اس اسکینڈل میں اب تک 879 مقدمات درج ہوچکے ہیں اور 292 گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، جبکہ عدالتوں میں چالان بھی جمع کرا دیے گئے ہیں۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ گریڈ 16 سے اوپر کے افسران کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کیے جائیں اور ایسے افراد کو ملازمت سے برطرف کیا جائے۔
اجلاس میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ بی آئی ایس پی کے تحت کئی فوت شدہ افراد کو بھی رقوم جاری کی گئیں۔
آڈٹ حکام کے مطابق 1 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد ان افراد کو ادا کیے گئے جو کئی سال قبل فوت ہوچکے تھے، بعض تو 2008 سے پہلے ہی انتقال کرچکے تھے۔
تاہم بی آئی ایس پی کے سیکریٹری نے وضاحت کی کہ 841 کیسز میں سے 94 فیصد افراد بعد میں زندہ پائے گئے۔ کمیٹی نے معاملے کی مزید تصدیق کی ہدایت کی۔
ایک اور آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی بینکوں سے 60 کروڑ 70 لاکھ روپے کے جرمانے وصول کرنے میں ناکام رہا ہے، جو غیر فعال اکاؤنٹس کو معاہدے کے مطابق بند نہ کرنے پر عائد کیے گئے تھے۔ کمیٹی نے اس پر مزید غور آئندہ اجلاس تک ملتوی کردیا۔
اسی طرح پاکستان بیت المال کے خلاف بھی ایک آڈٹ اعتراض زیرِ بحث آیا، جس میں انکشاف ہوا کہ 2019 سے 2022 کے دوران ہاؤس رینٹ الاؤنس میں ازخود اضافہ کرکے 15 کروڑ 60 لاکھ روپے زائد ادا کیے گئے۔ کمیٹی نے اس معاملے پر بھی مزید تحقیقات تک کارروائی مؤخر کردی۔