14 اگست محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ اس پاک سرزمین سے محبت اور اس کے وجود کی یاددہانی ہے۔ ایک ایسا عہد جس کی بنیادیں ہمارے اسلاف نے عظیم قربانیوں، بے شمار امیدوں اور ایک بہتر مستقبل کے خواب پر رکھی تھیں۔
لیکن اس جوش و خروش کے بیچ، کبھی کبھی دل کو اداس کر دینے والے کچھ ایسے مناظر سامنے آ جاتے ہیں جو ہمیں ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
کل ہی کا واقعہ ہے، میں جشنِ آزادی کی خریداروں کی رونق دیکھنے ایک اسٹال پر موجود تھی۔ وہاں بچوں اور بڑوں کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا، ہر کوئی پورے ذوق و شوق سے سبز و سفید کپڑے، بیجز اور پرچم خرید رہا تھا۔
محبت کا یہ منظر دیکھ کر دل خوش ہو رہا تھا، مگر اسی اثنا میں میری نظر زمین پر پڑی، وہاں سبز ہلا لی پرچم کا ایک ٹکڑا مٹی میں گرا ہوا تھا!
سخت حیرت اور دکھ کا مقام یہ تھا کہ وہاں سے کئی لو گ گزر رہے تھے، بچے اور بڑے اسی جوش کے ساتھ خریداریاں کر رہے تھے، مگر کسی کی نظر اس نیچے گرے ہوئے پرچم کی طرف نہ اٹھی، اور نہ ہی کسی نے آگے بڑھ کر اسے اٹھانے کی زحمت کی۔
ہم اسی پرچم کی خریداریاں تو کر رہے تھے، لیکن شاید ہم سے اس کا اصل احترام بھول رہا تھا۔ شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس وطنِ عزیز کا مطلب 'لا الٰہ الا اللہ' ہے اور ہماری تمام تر عزت، وقار اور پہچان اسی سایہ فگن پرچم کے دم سے ہے۔
یہی افسوسناک منظر 14 اگست کے فوراً بعد بھی نظر آتا ہے، جب وہی پیاری جھنڈیاں، جنہیں ہم نے اتنی محبت سے سجایا ہوتا ہے، گلیوں اور سڑکوں پر پامال ہو رہی ہوتی ہیں۔
محبت صرف نعروں، باجے بجانے یا ظاہری سجاوٹ کا نام نہیں ہے۔ سچی حب الوطنی تو وقار، سنجیدگی اور احترام مانگتی ہے۔
ہم اپنے گھروں کو تو شیشے کی طرح چمکاتے ہیں، لیکن وہی ہاتھ جو صبح سبز پرچم فضا میں بلندی سے لہراتے ہیں، شام ہوتے ہی اپنی ہی گلیوں اور سڑکوں پر جوس کے خالی ڈبے اور کچرا پھینکتے ہوئے ذرا تامل نہیں کرتے۔ جس مٹی کو ہم پاک سرزمین کہتے ہیں، اس کی پاکیزگی کا خیال رکھنا ہمارا پہلا فرض ہونا چاہیے۔
آج کے دور میں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد اور یکجہتی کی ہے۔ ہم مختلف طبقوں، زبانوں اور ذات پات کے خول سے نکل کر جب تک ایک قوم نہیں بنیں گے، تب تک ہم حقیقی ترقی کی شاہراہ پر قدم نہیں رکھ سکتے۔
14 اگست کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہماری پہچان صرف اور صرف 'پاکستان' ہے اور اتحاد ہی وہ واحد طاقت ہے جو کسی بھی قوم کو بلندیوں تک لے جاتی ہے۔
آئیے اس بار 14 اگست کو صرف ایک روایتی جشن تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے ایک عزمِ نو بنائیں۔ ایک ایسا عزم جس میں پرچم کی تعظیم بھی ہو، ماحول کی پاکیزگی کا پاس بھی ہو، اور ایک دوسرے کے لیے احترام کا جذبہ بھی۔
سبز و سفید پرچم کا اصل حسن اسی وقت سر بلند ہوگا جب اس کے نیچے بسنے والی قوم کے عمل اور رویے بھی اتنے ہی پاکیزہ اور باوقار ہوں گے۔







