کچھ ہفتے پہلے تک صورتحال یہ تھی کہ دو الگ الگ دباؤ بیک وقت اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے، جماعتِ اسلامی کا معاشی مطالبہ، اور پی ٹی آئی کا سیاسی مطالبہ۔ حکومت کے لیے یہ صورتحال زیادہ خطرناک تھی۔ 

دو مختلف نوعیت کے احتجاج اگر کسی طرح اسلام آباد میں یکجا ہو جاتے تو انتظامیہ کے لیے حالات سنبھالنا مشکل ہو سکتا تھا۔ یہی خدشہ خود جماعتِ اسلامی کے لوگ بھی ظاہر کر چکے تھے کہ ’حکومت کو دراصل یہی ڈر ہے کہ دونوں جماعتیں کہیں مل نہ جائیں۔‘ 

جماعتِ اسلامی نے مگر شروع سے فاصلہ رکھنے کی حکمتِ عملی اپنائی، یہ سمجھتے ہوئے کہ اگر اس کا خالص معاشی مطالبہ پی ٹی آئی کی سیاسی محاذ آرائی میں گڈ مڈ ہو گیا تو نہ لیوی ختم ہو گی، نہ کریڈٹ ملے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت نے اپنے مطالبات پر رعایت اور یقین دہانیاں حاصل کیں اور اپنا مقصد کسی حد تک محفوظ کر کے میدان سے نکل گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ’میدان خالی کرنا‘ پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

جب تک دو الگ دباؤ بیک وقت موجود تھے، حکومت کی توجہ اور وسائل بٹے ہوئے تھے۔ اب صرف ایک ہی محاذ باقی رہ گیا ہے، اور ریاستی مشینری اپنی پوری توجہ اسی ایک نکتے پر مرکوز کر سکتی ہے۔ اسلام آباد میں پہلے سے جاری غیر معمولی حفاظتی انتظامات، رکاوٹیں اور کریک ڈاؤن کی تیاری۔ یہ سب اب براہِ راست پی ٹی آئی کے راستے میں حائل ہوں گے، بغیر کسی دوسرے فریق کے دباؤ کے جو حکومت کی توانائی تقسیم کرتا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کو کسی اور انداز میں ڈیل کرتی ہے اور جماعت اسلامی کے لیے کوئی اور پیمانہ۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے ۔

اس کے علاوہ ایک بیانیہ کا پہلو بھی ہے۔ جب تک جماعتِ اسلامی کا مارچ جاری تھا، حکومت پر یہ تاثر تھا کہ ملک میں ’عوامی مسئلے‘ پر ایک وسیع تر تحریک چل رہی ہے۔ اب اگر صرف پی ٹی آئی کا مارچ باقی رہ گیا، تو حکومت اسے آسانی سے ایک خالصتاً سیاسی اور جماعتی معاملہ قرار دے کر پیش کر سکتی ہے۔ ’ایک جماعت کی ضد‘ کے طور پر بھی اسے پیش کیا جاسکتا ہے۔ نہ کہ عوامی تحریک کے طور پر۔ یہ فریمنگ پی ٹی آئی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ پی ٹی آئی کی اپنی تاریخ گواہ ہے کہ وہ تنہا میدان میں اترنے سے کبھی نہیں گھبرائی، 2014 کا دھرنا ہو یا 2022 کے لانگ مارچ، پارٹی نے اکیلے چلنے کی روایت برقرار رکھی ہے(یہ الگ بات ہے کہ 2014 میں علامہ طاہرالقادری ساتھ مل گئے تھے)۔ اس لحاظ سے ’تنہائی‘ پی ٹی آئی کے لیے کوئی نئی یا اجنبی کیفیت نہیں۔

 مزید یہ کہ بیرسٹر گوہر جیسے رہنماؤں کی جانب سے جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کو بھی 27 ستمبر کے مارچ میں شرکت کی دعوت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پی ٹی آئی خود کو مکمل تنہا محسوس نہیں کر رہی۔ وہ جماعتِ اسلامی کے عام کارکنوں اور ہمدردوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہی ہے، چاہے دونوں جماعتوں کی قیادت با ضابطه طور پر ایک دوسرے سے فاصلہ رکھے۔

ایک یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ پی ٹی آئی اب بھی تنہا نہیں۔ وہ اکیلے نکلے گی ضرور مگر حافظ نعیم الرحمان کی ’ملاقات‘ اچھی نہ رہی تو وہ ان کے ساتھ آ ملے گی۔ یہ ملن کہاں، کب اور کیسے ہوتا ہے یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

اب پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ آیا پی ٹی آئی، جماعتِ اسلامی کی طرح حالات کے مطابق لچک دکھا سکتی ہے یا نہیں۔ بظاہر تو بیانات سے لگتا ہے کہ وہ عمران خان کو سہولیات پر ہی مان جائے گی۔ کیوں کہ حافظ نعیم الرحمان، عمران خان سمیت دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کی بات کررہے ہیں جبکہ ان کی اپنی جماعت رہائی کے بجائے صرف ’دوائی‘ پر ہی خوش ہے۔ جماعتِ اسلامی نے ثابت کیا کہ رک جانا بھی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے؛ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کو کس راستے کا انتخاب کرتی ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر