پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ باپ سے نکل کر بیٹی مریم نواز کے پاس آ چکی ہے، پہلی خاتون وزیراعلیٰ کے طور پر۔ ادھر پیپلز پارٹی میں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کے نواسے بلاول بھٹو زرداری وزیرِ خارجہ اور پارٹی چیئرمین کی کرسی سنبھال چکے ہیں، جبکہ ان کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری بھی باقاعدہ سیاسی اننگز کا آغاز کر چکی ہیں۔ اور اب تیسری نسل بھی دستک دے رہی ہے۔

 مریم نواز کے صاحبزادے اور نواز شریف کے نواسے جنید صفدر باقاعدہ سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں، مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں، اور آئندہ انتخابات میں کسی نشست سے امیدوار بنائے جانے کے امکانات زیرِ گردش ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی تصویر ماہ نور صفدر کے شوہر اذان جبار کی ہے جو اپنی ساس مریم نواز کے ساتھ سرکاری تقریبات کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا بھائی، نانا کے بعد نواسہ، باپ کے بعد بیٹی، اور اب نواسہ اور نواسی ۔ سوال وہی پرانا ہے۔ آخر اقتدار کے ایوانوں میں گھوم پھر کر یہی دو خاندان واپس کیوں آتے ہیں؟

1970 سے بھٹو خاندان اور 1985 سے شریف خاندان اقتدار سے وابستہ ہیں۔ جب سے یہ دونوں خاندان سیاست میں داخل ہوئے، انہوں نے ضلع، تحصیل اور صوبے کی سطح تک اپنے نیٹ ورکس قائم کیے۔ وفاقی کابینہ بھی بڑی حد تک انہی خاندانی رشتوں پر استوار نظر آتی ہے۔ بڑے عہدوں کی تقسیم میں اہلیت سے زیادہ خون کے رشتے کو ترجیح دی جاتی رہی، اور یہ سلسلہ نسل در نسل آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

1947 کے بعد بھارت نے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کر دیا تھا، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا۔ یہاں یہ نظام کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے تو وہ کسی پارٹی رہنما کو قائم مقام چیئرمین بنانا چاہتے تھے، نہ کہ نصرت بھٹو کو، لیکن پارٹی میں موجود جاگیردار عناصر کو یہ بات ہضم نہ ہوئی۔ بعد ازاں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بلاول بھٹو پارٹی چیئرمین اور آصف علی زرداری شریک چیئرمین بنے، اور زرداری اب دوسری مرتبہ صدرِ پاکستان کے منصب پر فائز ہیں۔ شریف خاندان کا اسی کی دہائی تک سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا، مگر آج اس خاندان کی تیسری نسل باقاعدہ سیاسی میدان میں اتر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو بھارتی کانگریس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ خاندانی سیاست زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ لیکن حالات اس کے برعکس جا رہے ہیں۔ نواز شریف پارٹی کے تاحیات سرپرست کی حیثیت رکھتے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم ہیں، مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب اور اب ان کا بیٹا بھی سیاسی میدان میں۔ یعنی ایک ہی خاندان کی تین نسلیں بیک وقت اقتدار کے ایوانوں میں موجود یا داخل ہو رہی ہیں۔ دراصل ان سیاستدانوں کو اقتدار کی لت لگ چکی ہے؛ باپ نہ سہی تو بیٹی، بیٹی نہ سہی تو نواسہ۔ اقتدار خاندان سے باہر نہیں جانے دیا جاتا۔

پاکستان میں سوائے جماعتِ اسلامی کے کہیں بھی جمہوریت نہیں اور ایم کیو ایم کو بھی کسی حد تک جمہوری کہہ سکتے ہیں، شاید ہی کسی جماعت میں حقیقی اندرونی جمہوریت موجود ہو۔ عمران خان کو ہی دیکھ لیجیے، وہ ابتدا ہی سے پارٹی چیئرمین ہیں، جب عدالت اور الیکشن کمیشن نے نااہل کیا تو مجبوراً کسی اور کو بطور ڈمی لانا پڑا۔ جو بھی ان کی پارٹی کے اندر مخالفت کرتا ہے، وہ پارٹی میں باقی نہیں رہتا۔ مولانا فضل الرحمان جے یو آئی پر پوری طرح قابض ہیں، اور تقریباً پورا خاندان ہی عہدیدار ہے۔ اے این پی میں بھی آئین میں ترمیم کر کے اسفندیار ولی کو صدر بنایا گیا تھا۔ پھر بیٹا ایمل ولی خان پارٹی سنبھالے ہوئے ہے۔ بڑی جماعتوں میں جو بھی سربراہی سے چمٹ جاتا ہے، وہ کسی بڑی وجہ کے بغیر اسے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا  اور اب یہ سربراہی بھی وراثت کی طرح اگلی نسل کو منتقل ہو رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی میں واقعی کوئی اور اہل شخص موجود نہیں جو ان بڑے عہدوں کے قابل ہو؟ کیا بائیس، تئیس کروڑ انسانوں پر حکمرانی کے لیے صرف انہی خاندانوں کے افراد ہی میسر آتے ہیں؟ 

اگر یہ جماعتیں اس روش سے باہر نہ نکلیں، تو یہ "شیم ڈیموکریسی" اسی طرح چلتی رہے گی۔ بھائی کے بعد بھائی، نانا کے بعد نواسہ، باپ کے بعد بیٹی، اور اب نواسہ نواسی کی شکل میں تیسری نسل بھی اسی کھیل کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جن کارکنوں نے ان جماعتوں کے لیے قربانیاں دی ہیں، انہیں وہ مقام کبھی نہیں ملے گا جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں، جب تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر