کسی کسان کے پاس فصل کے بیج کے پیسے نہ ہوں تو وہ اسے بیج لے کر دیتی ہے، فصل پکنے والی ہو تو کھادوں، کیڑے مار سپرے وغیرہ کا بھی بندوبست کرکے دیتی ہے۔ سودی بیگم نیک بھی بہت ہے، پنچگانہ نماز کی پابند، تہجد گزار، صدقہ و خیرات کرنے والی۔ سودی بیگم کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ وہ تسبیح بھی ہر وقت اپنے پاس رکھتی ہے، محفل میں بیٹھی ہو تو تب بھی تسبیح کے دانے گرتے رہتے ہیں۔ رضیہ کی نیک نامی کے پورے علاقے میں چرچے ہیں۔

رضیہ کا فلاحی کاموں کے لیے ایک پورا نیٹ ورک ہے، پوری ٹیم ہے جو یہ کام کرتی ہے، رضیہ کو اکثر پتا بھی نہیں ہوتا کہ کئی کام ہوجاتے ہیں۔ علاقے میں نیک خاتون ہونے کے باوجود لوگ خوشحال نہیں، لوگوں کے خوشحال ہونے کے بجائے رضیہ بیگم کے اثاثے بڑھتے جا رہے ہیں۔ پہلے زمین لی، پھر دکانیں بنائیں، گاڑی بھی لی، اب تو پٹرول پمپ بھی لگا لیا۔ رضیہ بظاہر کوئی کام نہیں کرتی پھر بھی شاہانہ انداز۔ اس میں رضیہ کا کوئی قصور نہیں کیونکہ وہ تو بہت نیک ہے، ایماندار ہے، جس کی گواہی تو مسجد کا امام بھی دیتا ہے، قصور اُن لوگوں کا ہے جو مراد لے کر اس کے پاس جاتے ہیں، وہ تو بس ان کی مراد پوری کرتی ہے۔ ہماری رضیہ تو بہت شریف ہے؟

ایسی ہی کچھ صورتحال آج ہمارے حکمرانوں کی ہے۔ ملک اس وقت خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سخت ’کفایت شعاری‘ کے دور سے گزر رہا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے پٹرول میں 50 فیصد کٹوتی، نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی، بیرونِ ملک سرکاری دوروں پر روک اور سرکاری عشائیوں پر پابندی، یہ سب عوام کو بتایا جا رہا ہے۔ عام آدمی کا پٹرول تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 396 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا ہے، بازار رات 9 بجے بند کرنے کا حکم ہے۔ قربانی کا یہ سبق صرف عوام کے لیے ہے۔

دوسری طرف، وزیراعظم کی اپنی صاحبزادی اور داماد پر، جو کچھ عرصہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی اور پنجاب صاف پانی کمپنی میں مبینہ کرپشن کے الزامات میں مقدمات چلے اور دونوں مقدمات میں عدالت نے چند ہفتوں کے وقفے سے باعزت بری کر دیا۔ سبحان اللہ، کیا اتفاق ہے کہ جہاں عام آدمی کے لیے کفایت شعاری کا ڈھول بجایا جا رہا ہے، وہیں اقتدار کے قریب بیٹھے لوگوں کے مقدمات یوں ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔

ادھر سپرسی ایم کا صوبہ پنجاب بھی ذرا دیکھیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اپنی صاحبزادی کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے 9 ارب روپے (کچھ لوگ 11 ارب روپے کا بھی کہتے ہیں) مالیت کے سرکاری طیارے پر لندن تشریف لے گئیں، اور جب معاملہ سامنے آیا تو دعویٰ کیا کہ اس سفر پر آنے والا پونے تین کروڑ روپے کا خرچہ اپنی جیب سے ادا کر چکی ہیں۔

محکمہ اطلاعات پنجاب نے تصدیق کی کہ تقریباً دو کروڑ اکہتر لاکھ روپے جمع کروائے گئے، جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق چالان کی اصل رقم دو کروڑ ترانوے لاکھ سے زائد بنتی تھی۔

"وقت پیسہ ہے" کہہ کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش تو کی گئی، مگر سوال وہیں کھڑا ہے۔ عام آدمی کمرشل فلائٹ پر سفر کرے اور حکمران طبقہ سرکاری اثاثوں کو نجی ضرورت کے لیے استعمال کرکے بعد میں رسیدیں دکھائے، تو فرق کہاں رہ گیا؟

اسی دوران آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ نے پنجاب حکومت کے کھاتوں میں 10 کھرب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیاہے۔ فراڈ، زائد ادائیگیاں، غلط خریداری اور فنڈز کا غیر مجاز استعمال۔ حکومتی ترجمان اس رقم کا بڑا حصہ ماضی کی حکومت سے منسوب کرتے ہیں، اپوزیشن موجودہ دور سے، مگر عوام دونوں طرف سے یہی سنتے آئے ہیں کہ ’یہ رقم تو پچھلوں کی لوٹی ہوئی ہے۔‘ محکمہ صحت میں بھی مالی بے ضابطگیوں کے 25 کیسز کی تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہے، جہاں ادویات مارکیٹ ریٹ سے تین گنا زائد قیمت پر خریدی گئیں۔

جس کے دامن پر کوئی داغ نہیں، انہی کے قریب ترین رشتہ داروں پر کروڑوں کے الزامات لگتے ہیں اور عین وقت پر عدالتوں سے بریت مل جاتی ہے۔ کورونا کے دور میں جو سوال آڈٹ رپورٹ پر اٹھا تھا، وہی سوال آج مختلف شکل میں پھر کھڑا ہے۔ جب تک "رضیہ" کی نیک نامی کا یقین نہیں ہو جاتا، سوال پوچھنے کی اجازت کسے ہے؟ خیر، اب رضیہ سے پوچھنے کا وقت پھر آ گیا ہے کہ بغیر کام کاج کے شاہانہ زندگی کا راز کیا ہے؟

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر