مسئلہ اٹھاؤ، عوام کو متحرک کرو، احتجاج کرو، دھرنا دو، حکومت سے مذاکرات کرو اور مطالبے کو اس وقت تک سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنائے رکھو جب تک اس پر سنجیدہ توجہ نہ دی جائے۔
کراچی میں کے الیکٹرک کا مسئلہ ہو، پانی اور شہری حقوق کا معاملہ ہو، بحریہ ٹاؤن کے متاثرین کے حقوق اور رقوم کی واپسی کا معاملہ ہو، گوادر اور بلوچستان میں مقامی حقوق کی بات ہو، بجلی کے بل اور آئی پی پیز کا مسئلہ ہو یا آج پیٹرولیم لیوی اور پیٹرول کی قیمتوں کا معاملہ ہو، جماعتِ عوام نے ان سب مسائل پر نہ صرف آواز بلند کی ہے بلکہ نتائج بھی حاصل کیے ہیں۔
کہنے کو تو یہ سب الگ الگ مسائل ہیں، لیکن ان سب میں ایک چیز مشترک ہے: عوام کے مسئلے کو سیاسی مسئلہ بنانا!
اور یہاں جماعت اسلامی اور حافظ نعیم الرحمان کو ایک بات کا کریڈٹ ضرور دیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے عوامی مسائل کو صرف بیانات اور پریس کانفرنسوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ سڑک پر آئے، عوام کو منظم کیا، دھرنے دیے، احتجاج کیے اور پھر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بھی بیٹھے۔
کیونکہ سیاست صرف پارلیمنٹ میں تقریر کرنے کا نام نہیں! سیاست یہ بھی ہے کہ عوام کے دکھ کو آواز دی جائے۔ یہ بھی سیاست ہے کہ حکمرانوں کو بتایا جائے کہ عوام کا مسئلہ صرف ایک خبر نہیں، ایک سیاسی مطالبہ ہے!
پیٹرولیم لیوی کا معاملہ تو براہِ راست عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ کرائے بڑھتے ہیں، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے۔
یعنی پیٹرول صرف پیٹرول نہیں، پورے معاشی نظام کی قیمت ہے! اسی لیے حافظ نعیم الرحمٰن نے پیٹرولیم لیوی اور پیٹرول کی قیمتوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اسے عوامی احتجاج کا موضوع بنایا ہے۔
حکومت بھی پیٹرولیم قیمتوں اور عوام پر معاشی بوجھ کے حوالے سے مختلف مواقع پر اقدامات اور بیانات سامنے لاتی رہی ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو حقیقی ریلیف ملتا ہے؟ کیونکہ کسی بھی سیاسی جدوجہد کی اصل آزمائش یہی ہے۔
نعرہ لگانا آسان ہے، دھرنا دینا بھی آسان ہے مگر مسئلہ حل کرانا مشکل ہے! اور یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاجی سیاست کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔
اگر ایک سیاسی جماعت کسی مسئلے کو اٹھاتی ہے، عوام کو اس کے گرد منظم کرتی ہے، اسے قومی بحث کا حصہ بناتی ہے اور حکومت کو اس پر بات کرنے پر مجبور کرتی ہے تو یہ بھی سیاسی عمل کا ایک اہم پہلو ہے۔
کیونکہ سیاسی کامیابی صرف اسمبلی کی نشستوں سے نہیں ناپی جاتی۔ کبھی کامیابی یہ بھی ہوتی ہے کہ جو مسئلہ کل کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا، آج وہ قومی ایجنڈے کا حصہ بن جائے۔
جو سوال عوام کے دل میں تھا، وہ حکمرانوں کی میز تک پہنچ جائے اور شاید یہی جماعت اسلامی کی حالیہ سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔
مسئلہ اٹھانا، عوام کو جگانا، حکومت کو متوجہ کرنا اور پھر مطالبے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا! اب پیٹرولیم لیوی کے معاملے میں بھی اصل فیصلہ وقت کرے گا کیونکہ آخر میں اصل سوال یہی ہے کہ عوام کے لیے کون کھڑا ہوا؟







