سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک مذہبی جماعت، جس کے بارے میں عمومی تاثر یہ رہا ہے کہ وہ الیکشن جیتنے میں کمزور مگر جلسے بھرنے میں طاق ہے، پونے دو مہینے سے حکومت کو ایک ایسے مسئلے پر میز پر بٹھائے ہوئے ہے جس پر باقی تمام سیاسی جماعتیں یا تو خاموش تھیں یا اسے ’معاشی مجبوری‘ کہہ کر ٹال چکی تھیں۔ پیٹرولیم لیوی وہ چیزہے جسے حکومت ’ریگولیٹری ڈیوٹی‘ کہتی ہے اور عوام ’بھتہ‘۔ اچانک قومی سیاست کا مرکزی نکتہ بن گئی، اور اس کا سہرا (چاہے حکومت مانے یا نہ مانے) حافظ نعیم الرحمان کے سر جاتا ہے۔

سات اگست کا دن واقعی "تاریخی" ثابت ہوا، کم از کم شرکت کے لحاظ سے۔ ملک بھر کی شاہراہیں بند ہوئیں، دھرنے لگے، اور یہ سلسلہ ایک دن کی رسم نہیں بلکہ ایک مسلسل تحریک میں بدل گیا۔ کراچی میں جلسہ عام، پشاور میں نوجوانوں کا جمِ غفیر، وکلا برادری کی شمولیت، خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت۔ یہ سب اس بات کا اشارہ تھا کہ یہ محض ایک جماعت کا احتجاج نہیں رہا بلکہ، حافظ نعیم کے اپنے الفاظ میں، ’پورے پاکستان کی عوام کا دھرنا‘ بن چکا تھا۔

 ایک تجزیہ نگار نے لکھا کہ یہ صرف پیٹرول کی قیمت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عمومی مایوسی کا اظہار ہے، جسے کسی نے وقت پر پکڑ لیا۔

پھر آیا مذاکرات کا لامتناہی سلسلہ۔ پہلا دور، دوسرا دور، تیسرا دور۔ ہر بار حکومت نے ’مزید وقت‘ مانگا، ہر بار جماعتِ اسلامی نے اپنے چھ نکات دہرائے، اور ہر بار میڈیا نے ’بریک تھرو متوقع‘ کی سرخی لگائی جو اگلے دن غلط ثابت ہوئی۔ چوتھا دور بے نتیجہ ختم ہوا۔ پانچواں دور، جو انیس ستمبر کو منصورہ میں ہوا، اس کی کہانی بھی وہی پرانی ہے۔

 حکومتی وفد نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دے کر بیس ستمبر کے لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کی درخواست کی، جماعتِ اسلامی نے انکار کیا، اور ’جلد غیر معمولی ریلیف‘ کی یقین دہانی ایک بار پھر دہرائی گئی ۔ وہی یقین دہانی جو اب اتنی بار دہرائی جا چکی ہے کہ خود حکومتی وفد بھی شاید اسے یاد کرنے کے بجائے پرچی سے پڑھتا ہو گا۔

نائب امیر لیاقت بلوچ کا مؤقف بہرحال واضح رہا کہ جب تک لیوی ختم نہیں ہوتی، لانگ مارچ جاری رہے گا۔ ان کا یہ الزام بھی دلچسپ ہے کہ حکومت نے جماعتِ اسلامی کو کریڈٹ دینے سے بچنے کے لیے جلدی میں وزیرِ اعظم ریلیف پروگرام کا اعلان کر دیا۔ یعنی درد وہی ہے، دوا بھی وہی ہے، بس لیبل بدل کر مریض کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ ڈاکٹر کی اپنی تشخیص تھی۔ اب لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ حکومت سنجیدہ ہیں تو وزیراعظم خود آن بورڈ آئیں۔ بنتا بھی ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان میں "شیم ڈیموکریسی" ایسے ہی چلتی رہے گی؟

اس پوری تحریک کی سب سے کاٹ دار جملہ بازی وہ رہی جب حافظ نعیم الرحمان نے مریم نواز کے سرکاری طیارے کے تنازع کو اپنی تقریروں کا حصہ بنایا۔ عوام روٹی کے لیے تڑپ رہی ہے اور حکمران طبقہ اربوں روپے کے جہازوں پر سفر کر رہا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی طعنہ نہیں۔ یہ اس پوری تحریک کا مرکزی استعارہ بن گیا۔ایک طرف وہ طبقہ جو بجلی کے بل اور بچوں کی فیس میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہے، دوسری طرف وہ طبقہ جس کے لیے کروڑوں کا خرچہ ’ٹائم از منی‘ کہہ کر جواز بن جاتا ہے۔ اور یہی وہ تضاد ہے جس نے اس تحریک کو محض ایک قیمتوں کے مسئلے سے بڑھا کر ایک وسیع تر بیانیے میں تبدیل کر دیا۔

مذاکرات میں ایک اور دلچسپ موڑ وہ تھا جب حکومتی وفد نے خود تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے اور عالمی مالیاتی ادارے کا وفد جلد پاکستان آنے والا ہے۔ یعنی حکومت اپنی مجبوری خود بتا رہی ہے کہ  لیوی ختم کرنا چاہتے تو ہیں، مگر باہر بیٹھے قرض دہندگان کی اجازت درکار ہے۔ اس اعتراف سے یہ واضح ہو گیا کہ اصل مذاکرات صرف منصورہ اور اسلام آباد کے درمیان نہیں، بلکہ واشنگٹن تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اور جماعتِ اسلامی، چاہے کتنے ہی دھرنے دے لے، اس تیسرے فریق کو میز پر نہیں بلا سکتی۔

اسی دوران، ملک کے دوسرے کونے میں، پی ٹی آئی کی طرف سے ستائیس ستمبر کے مارچ کا اعلان اور علیمہ خان جیسی گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔ حکومت کو بیک وقت دو محاذوں پر لانگ مارچ کا سامنا ہے۔ ایک جس کا مطالبہ اقتصادی ہے، دوسرا جس کا مطالبہ سیاسی۔ ظاہر ہے، سیکیورٹی اداروں کے لیے یہ ہفتہ خاصا مصروف رہا ہو گا اور آئندہ بھی مصروف ہی رہے گا۔

اگرآج 21 ستمبر تک اس تحریک کا میزان لگایا جائے تو تصویر یہ بنتی ہے کہ پیٹرولیم لیوی ابھی تک موجود ہے، مگر حکومت پانچ بار مذاکرات کی میز پر بیٹھنے، بار بار ریلیف کی یقین دہانیاں کرانے، اور اپنی سیکیورٹی مجبوریوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ یہ سب کچھ ایسی جماعت سے، جسے پارلیمانی سیاست میں اکثر ’اضافی‘ سمجھا جاتا رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے اپنی تحریک کو خالص اقتصادی رنگ دے کر ایک ایسا میدان چنا ہے جہاں مذہبی و سیاسی تفریق کم اور طبقاتی تفریق زیادہ نمایاں ہے۔ اور شاید یہی اس تحریک کی سب سے بڑی حکمتِ عملی ہے۔

سوال البتہ وہی پرانا ہے جو پاکستان کی ہر تحریک کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ کیا یہ دباؤ حقیقی پالیسی تبدیلی پر منتج ہو گا، یا ’غیر معمولی ریلیف‘ کا وعدہ بھی وقت کے ساتھ اسی طرح دھندلا جائے گا جیسے ماضی کے سیکڑوں وعدے دھندلا چکے ہیں؟ کراچی سے شروع ہونے والا ’سپر لانگ مارچ‘ اس سوال کا اگلا باب لکھے گا ۔ مگر اس بار کم از کم اتنا طے ہے کہ حافظ نعیم الرحمان تھکنے کا نام نہیں لے رہے، اور حکومت کا صبر بھی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ حکومت کچھ نہیں دیتی تو یہ ریاست کی ناکامی ہوگی۔ حافظ نعیم الرحمان تو کامیاب ہوچکے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر