تنقید کیوں ہورہی ہے اور کون کررہا ہے؟ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام آباد کی طرف اس وقت دو الگ الگ سیاسی دباؤ بڑھ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لیے نہیں بلکہ جیل میں سہولیات کے لیے 27 ستمبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے مارچ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کی بھی بات کررہی ہے۔ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے مطالبات مختلف ہیں، مگر منزل ایک ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے جماعتِ اسلامی کی حکمتِ عملی کو سمجھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

جتھوں اور سیاسی جماعتوں میں یہی فرق ہوتا ہے جو جماعتِ اسلامی نے اب کر دکھایا ہے، جتھے مار بھی کھاتے ہیں اور ناکام بھی لوٹتے ہیں، کیونکہ ان کی حکمتِ عملی ’سب کچھ یا کچھ نہیں‘ کے اصول پر چلتی ہے۔ سیاسی جماعتیں مگر مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی سوچ لچکدار ہوتی ہے، کبھی آگے بڑھنا پڑتا ہے تو کبھی رک جانا پڑتا ہے۔ اصل مقصد نعرہ نہیں، نتیجہ ہوتا ہے۔

یہی اصول جماعتِ اسلامی کی حالیہ حکمتِ عملی میں صاف نظرآ رہا ہے۔ مہنگائی اور لیوی ایسا مسئلہ ہے جس پر عام شہری براہِ راست متاثر ہے، اسی لیے حکومت نے بڑے ریلیف پیکج کی پیشکش کی ہے، اور جماعت اسلامی کی قیادت نے سنجیدگی دکھانے پر مارچ میں عارضی وقفہ کیا ہے۔ البتہ لیوی کے مکمل خاتمے تک مارچ باقاعدہ طور پر ختم نہیں ہو گا۔ حافظ نعیم الرحمان نے تو علی الاعلان کہا ہے کہ حکومت نہیں مانتی تواسلام آباد میں پہلے ’ڈی‘ ہوگا پھر ’جی‘ ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے (امریکا میں موجودگی کے باوجود) امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان کو ٹیلی فون کرکے اسلام آباد لانگ مارچ ختم کرنے کی درخواست کی۔ امیرِ جماعت نے اپنے مطالبات پر عملدرآمد پر زور دیا، ساتھ ہی مشاورت سے فیصلہ کرنے کی بات بھی کی۔ یعنی نہ فوری انکار، نہ فوری قبولیت۔ یہ رویہ بھی اسی ’لچکدار سیاسی سوچ‘ کی عکاسی کرتا ہے جو جتھوں میں عموماً مفقود ہوتی ہے: جذباتی رد عمل کی بجائے سوچ سمجھ کر جواب۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان نے جماعتِ اسلامی کے دھرنوں کی حمایت کرتے ہوئے 27 ستمبر کے مارچ میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ یہیں سے جماعتِ اسلامی کے لیے اصل مشکل پیدا ہوتی ہے، اگر دونوں احتجاج ایک ہی رنگ میں دکھائی دیے، تو جماعت کا خالص معاشی مطالبہ پی ٹی آئی اور حکومت کی سیاسی محاذ آرائی میں دب سکتا ہے۔

ایک جتھہ ہوتا تو شاید یہ فرق کرنے کی زحمت ہی نہ کرتا ۔ دونوں مارچ ایک ہی جوش میں ضم ہو جاتے اور نتیجہ کچھ نہ نکلتا۔ مگر ایک سیاسی جماعت کو اپنی الگ شناخت اور الگ مطالبے کا خیال رکھنا پڑتا ہے، اسی لیے جماعتِ اسلامی جان بوجھ کر فاصلہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایک طرف مذاکرات اور ریلیف کا راستہ کھلا ہے، دوسری طرف اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے 24 سرکاری تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں۔ یعنی حکومت مذاکرات کے ساتھ ساتھ سختی کی تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ دوہری پالیسی خود اس بات کی گواہ ہے کہ حکومت کو بھی اندازہ ہے کہ محض ریلیف پیکج کی یقین دہانیاں کافی نہیں ہوں گی۔

اصل سوال یہ ہے کہ حکومت جماعتِ اسلامی کو ریلیف پر مطمئن کر کے دونوں احتجاجوں کو الگ رکھ پائے گی یا نہیں۔ اگر جماعتِ اسلامی نے وہی حکمتِ عملی برقرار رکھی جو اب تک نظر آئی ہے ۔ یعنی جتھے کی بے لچک ضد کی بجائے سیاسی جماعت کی لچکدار مگر مقصد پر قائم سوچ۔

تو ملتان میں ہونے والا فیصلہ محض وقفہ نہیں بلکہ یہ ثابت کرے گا کہ آیا ایک مذہبی جماعت واقعی خالص نتیجہ پر مبنی سیاست کر سکتی ہے، یا وہ بھی بالآخر جذباتی نعروں کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ جتھے ہار کر بھی ’فتح‘ کا اعلان کر دیتے ہیں؛ سیاسی جماعت کی اصل کامیابی وہی ہے جو ٹھوس شکل میں، عوام کی جیب میں محسوس ہو۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر