اعداد و شمار یقیناً افسوسناک ہیں، لیکن اصل تماشا تو غریب کی تعریف پر لگا ہوا ہے۔ ورلڈ بینک کے نزدیک جو شخص مہینے کے 24 ہزار روپے کما رہا ہے، وہ غریب ہے، جب کہ ہماری حکومت کا ماننا ہے کہ ساڑھے آٹھ ہزار روپے کمانے والا تو حاتم طائی ہے، جسے کسی چیز کی کمی ہی نہیں۔ اب جب حکومت ہی ماننے کو تیار نہیں تو بھلا ورلڈ بینک کون ہوتا ہے ہمیں غریب کہنے والا؟

ہمارے وزرائے کرام اکثر ٹی وی پر آ کر معصومیت سے شکایت کرتے ہیں کہ لاکھوں روپے کی تنخواہ میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا، لہٰذا مراعات بڑھائی جائیں۔ اب سوچیے، جنہیں مفت پٹرول، شاہی محلات جیسے سرکاری گھر، چمکتی گاڑیاں اور نوکر چاکر میسر ہوں، ان کا لاکھوں روپے میں گزارہ نہیں ہو رہا تو پھر اسی حکومت کی نظر میں چند ہزار کمانے والا عام آدمی امیر کیسے ہو گیا؟ شاید حکومت سمجھتی ہے کہ عوام کے پاس کوئی جادوئی چراغ ہے اگر ایسا ہے تو حکومت ہم سے ساڑھے آٹھ ہزار ماہانہ لے لیا کرے اور لاکھوں روپے میں جن کا گزارہ نہیں ہو پاتا ان کی تنخواہ ہمیں دے دیا کرے۔

ورلڈ بینک رو رو کر ہلکان ہو رہا ہے کہ پاکستان میں غربت بڑھ رہی ہے، عام آدمی آٹا، دال، چاول اور چینی جیسی بنیادی چیزیں خریدنے کی سکت کھو چکا ہے، تعلیم اور صحت خواب بن چکے ہیں۔ لیکن حکومت مسکرا کر کہتی ہے کہ سب اچھا ہے! ملک تاریخ کی سب سے عظیم ترقی کر رہا ہے اور حکومت کی یہ منطق بھی کمال ہے کہ اگر واقعی غربت ہوتی تو لوگ سڑکوں پر آتے، شور مچاتے، اپنا حق مانگتے۔ اب جب سب خاموش ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سب کے پاس پیسہ ہی پیسہ ہے اور خاموشی رضامندی کی نشانی جو ٹھہری۔

عالمی اداروں کے مطابق پاکستان کی 60 فیصد آبادی یعنی 18 کروڑ سے زائد لوگ صحت مند غذا سے محروم ہیں، 40 فیصد بچے غذائی قلت (سٹنٹنگ) کا شکار ہیں اور 41 فیصد خواتین میں خون کی کمی ہے۔ بالغ آبادی کا بڑا حصہ شوگر کا مریض بن چکا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بھوکے اور بیمار لوگ آخر آئے کہاں سے؟ اور اگر آ ہی گئے ہیں تو بول کیوں نہیں رہے؟ یا شاید وہ بولنے کی طاقت بھی بھوک کے ہاتھوں گنوا بیٹھے ہیں۔

مجھے یہاں فلم ’ہندی میڈیم‘ کا وہ مشہور ڈائیلاگ یاد آتا ہے، جس میں اداکار دیپک ڈوبریال، عرفان خان کو سمجھاتے ہوئے کہتا ہے ’غریبی میں جینا ایک کلا (فن) ہے، ہم سکھائیں گے تمہیں، کیونکہ ہم خاندانی غریب ہیں۔ ہمارا باپ غریب، ہمارا دادا غریب، پردادا غریب، اس کا باپ غریب، سب غریب، ساتوں پشتیں غریب۔ ایسا نہیں کہ پہلے غریب تھے، پھر امیر ہو گئے، پھر غریب ہو گئے۔ نہیں، ہم شُدھ غریب ہیں۔‘

غریبی میں جینا ایک کلا ہے اور بس فرق صرف اتنا ہے کہ فلم میں وہ خاندانی غریب سکھا رہا تھا اور یہاں ہماری حکومت اور آئی ایم ایف مل کر پاکستانی قوم کو یہ ’کلا‘ سکھا رہے ہیں۔ ہمیں اتنا تپایا جا رہا ہے اور ایسا پختہ کیا جا رہا ہے کہ کل کو اگر دنیا کسی بڑی معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ بھی جائے تو پاکستانی قوم دنیا میں سب سے منفرد اور پُرسکون نظر آئے، کیونکہ ہم تو پہلے ہی آدھی روٹی اور بغیر بجلی کے جینے کے عادی ہو چکے ہوں گے۔ یہی تو وہ ’کلا‘ ہے جو صرف ہمارے پاس ہے اور جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر