لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد (جو اس وقت کور کمانڈر راولپنڈی تھے) نے صورتحال کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے کمان سنبھالی۔ کراچی میں موجود فوجی دستوں نے احکامات جاری کیے بغیر خود ہی ایئرپورٹ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا، لائٹس آن کروائیں اور طیارے کو بحفاظت زمین پر اتارنے کے لیے رن وے کلیئر کرایا۔"

یہ سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں آج کے دن، یعنی 12 اکتوبر 1999 سے متعلق لکھا ہے۔ یہ وہی دن ہے جسے اب تک پاکستان مسلم لیگ (ن) بطور یومِ سیاہ مناتی آئی ہے (تھی)۔

12 اکتوبر 1999 کی شام پاکستان میں ایک ایسا سیاسی واقعہ پیش آیا جس نے ملک کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل خواجہ ضیاءالدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ مشرف اس وقت سری لنکا کے دورے سے پاکستان واپس آ رہے تھے، لیکن وزیراعظم کا یہ فیصلہ فوجی قیادت کے ساتھ تصادم کا سبب بنا اور چند گھنٹوں میں ملک کی منتخب حکومت ختم ہو گئی۔

جنرل پرویز مشرف نے اپنی خودنوشت میں اس روز کے واقعات بیان کیے ہیں، بلکہ تاریخ بھی ان سے بھری پڑی ہے۔ ان کے مطابق شام پانچ بجے ان کی برطرفی کی خبر نشر ہونے کے بعد فوج راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں متحرک ہو گئی۔ پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں اس کارروائی کو "جوابی فوجی کارروائی" قرار دیا ہے، تاہم تاریخی طور پر اس واقعے کو 12 اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں فوجی دستے پاکستان ٹیلی ویژن اور وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوئے۔ پی ٹی وی مرکز میں موجود صحافی فہد حسین نے برسوں بعد ڈان کو بتایا کہ انہوں نے مسلح فوجیوں کو عمارت کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے اور سیڑھیاں چڑھتے دیکھا۔ اگلے روز اخبارات میں شائع ہونے والی، فوجیوں کے پی ٹی وی مرکز کے مرکزی دروازے پر چڑھنے کی تصویر اس واقعے کی نمایاں علامت بن گئی۔

دوسری طرف کراچی ایئرپورٹ پر بھی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی۔ جنرل مشرف کا طیارہ سری لنکا سے پاکستان واپس آ رہا تھا، لیکن اس کی لینڈنگ کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہو گئی۔ فوجی اہلکاروں نے ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھالا اور بالآخر ان کا طیارہ کراچی میں اترا۔

ادھر اسلام آباد میں فوجی دستے وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ مشرف کے بیان کے مطابق راولپنڈی کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوئے اور نواز شریف کو حراست میں لے لیا۔ ان کے بھائی شہباز شریف اور حکومت کے دیگر اہم افراد بھی فوجی کارروائی کے بعد حراست میں لیے گئے۔ لاہور میں ماڈل ٹاؤن اور رائے ونڈ میں شریف خاندان کی رہائش گاہوں کو بھی فوجی اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا۔

جنرل مشرف نے اسی رات قوم سے خطاب کیا اور فوجی اقتدار سنبھالنے کا جواز یہ بتایا کہ ملک کو مزید عدم استحکام سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھانا ضروری ہو گیا تھا۔ 14 اکتوبر 1999 کو انہوں نے ہنگامی حالت نافذ کی، آئین کو معطل رکھنے کا اعلان کیا اور خود چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھال لیا۔

نواز شریف کے خلاف بعد ازاں طیارہ ہائی جیکنگ کیس بھی قائم کیا گیا اور اپریل 2000 میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی، اگرچہ اس مقدمے کی اپنی الگ قانونی اور سیاسی تاریخ موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) ہر سال 12 اکتوبر کو اسی واقعے کی یاد میں یومِ سیاہ مناتی ہے۔ پارٹی کے نزدیک یہ وہ دن تھا جب ایک منتخب وزیراعظم کی حکومت ختم کر کے جمہوری عمل کو فوجی مداخلت کے ذریعے روک دیا گیا۔ اس مناسبت سے پارٹی رہنما عموماً جمہوریت، پارلیمان کی بالادستی اور آئینی حکمرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں (تھے)۔ اب ایسا کرتے ہیں یا نہیں، اس کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔

کل وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کو سن رہا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ شہباز شریف نے نواز شریف کی مشاورت سے کیا ہے۔ سوچ رہا ہوں کہ نواز شریف نے کس قدر بڑا پتھر دل پر رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ کیا انہیں 12 اکتوبر 1999 کا وہ دن یاد نہیں آیا ہو گا؟ کیا شہباز شریف وہ سب بھول گئے ہوں گے؟

تحریر: ادیب یوسفزئی

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی فیس بک وال سے لی گئی ہے۔ ادارے کا ان کے ذاتی خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ایڈیٹر)