سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ دفاعی معاہدے کو فعال بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ابھی نقارے کی گونج تھمی نہیں تھی کہ سوال اٹھ گیا کہ مصر کب آ رہا ہے؟ یہ سوال مہینوں سے گردش میں ہے، اور قاہرہ نے اب تک ’ہاں‘ کہی ہے نہ ’ناں‘۔ گویا ایک ایسا مہمان ہے جو دروازے پر کھڑا ہو، ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبا بھی ہو، مگر جوتے اتارنے کو تیار نہ ہو۔ عام الفاظ میں کہیں تو مصر ناراض پھپھو کا کردار بن کے سامنے آیا ہے۔

کیا کہیں مصر کی بھی مجبوریاں ہیں، اسرائیل کا ہمسائیہ ہے اور مسلمان ملک ہے، نہ تو ہمسائیوں کی ناراضگی برداشت ہوتی ہے اور نہ ہی ’ماں جائیوں‘ کا غصہ۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بڑی نرمی سے کہا کہ مصر ہمارا اہم شراکت دار ہے اور ’بعض نامعلوم تکنیکی مسائل‘ حل ہو جائیں تو شامل ہو سکتا ہے۔ سفارت کاری کی زبان میں ’نامعلوم تکنیکی مسائل‘ وہ خانہ ہے جس میں ہر وہ بات سما جاتی ہے جو کھل کر کہنی مناسب نہ ہو۔

ادھر مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے 13 اگست کو فرمایا کہ قاہرہ جائزہ لے رہا ہے، اور آئین اور قانونی ذمہ داریوں کی روشنی میں بڑی باریکی سے غور ہو گا۔ آئین کا ذکر آتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بات سنجیدہ ہے، یا کم از کم سنجیدہ دکھائی جانی مقصود ہے۔

 2014 کے مصری آئین کا آرٹیکل 152 کہتا ہے کہ صدر نہ جنگ کا اعلان کر سکتا ہے نہ فوج سرحد پار بھیج سکتا ہے، جب تک قومی دفاعی کونسل سے مشورہ نہ ہو اور ایوانِ نمائندگان کی دو تہائی اکثریت منظوری نہ دے۔ ہمارے ہاں اکثر ایسی شقیں کتاب میں رہتی ہیں اور فیصلے کہیں اور ہو جاتے ہیں۔ مصر نے کم از کم یہ ظاہر کیا ہے کہ شق کتاب سے باہر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر السیسی ماضی میں مشترکہ عرب فوجی قوت اور ایک نئے عرب۔اسلامی فریم ورک کے حق میں بول چکے ہیں۔ تقریر میں اتحاد اور عمل میں احتیاط، یہ تضاد صرف مصر کا خاصہ نہیں۔ جب تک اتحاد کاغذ پر رہے، اس کے حق میں بولنا آسان ہوتا ہے۔ جب وہ فعال ہونے لگے تو حساب کتاب شروع ہو جاتا ہے کہ کیا ملے گا اور کیا جائے گا۔

مصر کا حساب بھی کچھ ایسا آسان نہیں۔ ایک طرف غزہ ہے، دوسری طرف بحیرہ احمر، تیسری طرف قرنِ افریقہ، اور اوپر سے ایتھوپیا سے بڑھتی کشیدگی۔ حوثیوں کے حملوں سے سوئیز کی آمدنی پہلے ہی ڈوب رہی ہے۔ ایسے میں مکہ اتحاد کا مطلب حوثیوں کے خلاف کسی مہم کا حصہ بن جانا بھی ہو سکتا ہے، اور یمن کے نام سے قاہرہ کو 1960 کی دہائی کی مہنگی مداخلت یاد آ جاتی ہے۔ جس نے ایک بار یمن کے پہاڑوں میں ہاتھ جلایا ہو، وہ اگلی بار آگ کو دور سے بھی دیکھے تو ہاتھ جیب میں رکھ لیتا ہے۔

پھر امریکا ہے، اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ ہے، ایران سے تعلقات ہیں، اور ریاض اور ابوظہبی کی وہ پرانی رقابت ہے جس میں ایک کے ساتھ بیٹھنے کا مطلب دوسرے کی بھنویں چڑھانا ہے۔ مصر اگر اتحاد میں جاتا ہے تو اکیلا نہیں جاتا، اپنے ساتھ یہ سارا سامان بھی لے جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصر سب سے کٹا ہوا ہے۔ وہ پہلے ہی ریجنل فور (R4) میں شامل ہے جس میں یہی تینوں ملک ہیں، اور 13 اگست کو ہی وہ ریاض کی قیادت میں بننے والے ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کا حصہ بن چکا ہے۔

 ترکیہ کے ساتھ ڈرونز اور یو اے ویز کی مشترکہ تیاری کا تعاون بھی بڑھ رہا ہے۔ یعنی مصر کا اصول یہ لگتا ہے کہ تعلق رکھو، مگر اتنا نہیں کہ بندھ جاؤ۔ قاہرہ کی ہچکچاہٹ اتحاد کی مخالفت نہیں، متوازن شراکت داریوں کی وہ دیرینہ پالیسی ہے جس میں ہر دروازے سے رسم و راہ رکھی جاتی ہے مگر کسی ایک کمرے میں مستقل بسیرا نہیں کیا جاتا۔

سو مصر کو ’ہاں‘ اور ’ناں‘ کے درمیان کھڑا رہنے دیجیے۔ اس خطے میں اکثر وہی محفوظ رہتا ہے جو فیصلے میں دیر کرے، اور وہی پچھتاتا ہے جو بروقت فیصلہ کرلے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ دیر دانائی بھی ہو سکتی ہے اور ٹال مٹول بھی، اور اس کا فیصلہ تاریخ ہمیشہ بعد میں کرتی ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر