لیکن یہ سب تو ظاہر کی نمائش ہے۔ کبھی ہم نے رک کر اس آئینے سے یہ سوال نہیں کیا کہ مٹی کے اس پیکر کے اندر جو انسان چھپا بیٹھا ہے، اس کا خدوخال کیسا ہے؟ اس کا رنگ کتنا نکھرا ہے یا اس پر مصلحتوں کی کتنی دھول جم چکی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ہم دنیا کو اپنا وہ چہرہ دکھانے میں اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ خود اپنے ہی "عکسِ دروں" سے خوف آنے لگا ہے۔

​باطن کا یہ آئینہ بڑا بے مروت ہوتا ہے۔ یہ نہ تو منصب دیکھتا ہے، نہ خاندانی جاہ و جلال اور نہ ہی سفیدی مائل خوبصورت لباس۔ یہ انسان کو بالکل ویسا ہی دکھاتا ہے جیسا وہ خدا کی نظر میں یا اپنے تنہا ترین لمحات میں ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ظاہر اور باطن کے درمیان ایک گہری خلیج حائل ہو چکی ہے۔ ہم محفلوں میں بیٹھ کر عدل و انصاف کی بساط بچھاتے ہیں، ہماری زبانیں تہذیب اور شرافت کے موتی رولتی ہیں، اور ہمارے قلم سچائی کے قصیدے لکھتے ہیں۔ مگر جونہی ہم تنہائی کے اس دائرے میں داخل ہوتے ہیں جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا، ہمارا وہ اخلاقی رعب و دبدبہ ریت کے گھروندے کی طرح ڈھیر ہو جاتا ہے۔

​کسی صوفی کا قول ہے کہ "اگر تمہیں اپنے باطن کی سچائی جاننی ہو تو دیکھو کہ تم اس وقت کیا کرتے ہو جب تمہیں دنیا میں کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔" یہ جملہ بظاہر جتنا سادہ ہے، اپنے اندر اتنی ہی گہری ملامت کا سمندر چھپائے ہوئے ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں پارسائی کا معیار محض "پکڑے نہ جانا" رہ گیا ہے۔ جب تک ہمارے عیب دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں، ہم معزز بھی ہیں اور معتبر بھی۔ لیکن جس دن اندر کا غبار باہر آتا ہے، تو پتا چلتا ہے کہ جسے ہم پارسائی سمجھ رہے تھے، وہ صرف ایک اچھے پردے کا کمال تھا۔ اس منافقت نے ہماری روحوں کو اس حد تک بوجھل کر دیا ہے کہ اب ہم سچی خوشی اور قلبی سکون کے لیے ترس گئے ہیں۔

​اگر ہم اپنے اردگرد پھیلے سماجی منظرنامے کا گہرا مطالعہ کریں، تو ہر طرف ایک عجیب سا تضاد نظر آتا ہے۔ وہ طبقہ جو معاشرے کے اخلاق کا امین کہلاتا ہے، جب اس کے نجی گوشوں پر نظر پڑتی ہے تو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے لوگ، جو عوام کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں، ان کا اندرون اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ وہاں صرف انا، لالچ اور ذاتی مفاد کی گنجائش بچتی ہے۔ لیکن کیا یہ شکوہ صرف ایوانوں میں بیٹھے چند لوگوں سے ہے؟ نہیں۔ یہ مرض اب ایک وبا کی طرح پورے معاشرے میں پھیل چکا ہے۔ ہم گلی محلے کے سطح پر بھی اسی دوہرے معیار کا شکار ہیں۔ ہم دوسروں کے معمولی سے عیب پر عدالت لگانے کو تیار ہو جاتے ہیں، مگر اپنے بڑے سے بڑے گناہ کو "وقت کی ضرورت" کہہ کر درگزر کر دیتے ہیں۔

​اس بے حسی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ضمیر کی اس مدہم سی آواز کا گلا گھونٹ دیا ہے جو ہر غلط قدم پر ہمیں ٹوکتی تھی۔ شروع شروع میں جب انسان کوئی غلط کام کرتا ہے، تو اندر کا آئینہ دھندلا جاتا ہے اور ایک چوٹ سی لگتی ہے۔ لیکن جب یہ عمل بار بار دہرایا جائے، تو ضمیر پر مصلحت کا ایک ایسا زنگ چڑھ جاتا ہے کہ پھر برائی، برائی محسوس ہی نہیں ہوتی۔ ہم نے اپنے جھوٹ کو 'مصلحت'، اپنی طمع کو 'حکمتِ عملی' اور اپنی بے حسی کو 'سنجیدگی' کا نام دے کر خود کو مطمئن کر لیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے کسی بھی قوم کے اخلاقی زوال کا حتمی سفر شروع ہوتا ہے۔

​نرمی اور دردمندی کے ساتھ اگر سوچا جائے، تو کیا یہ زندگی اسی تضاد کے ساتھ گزارنے کے لیے ہے؟ کیا ہم کبھی اس قابل ہو پائیں گے کہ اپنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پورے مان کے ساتھ کہہ سکیں کہ "ہاں، میں جیسا باہر ہوں، ویسا ہی اندر بھی ہوں"؟ اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم جراتِ رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا احتساب خود کریں۔ دوسروں پر انگلیاں اٹھانا بند کریں اور اپنے اندر کے اس آئینے کو صاف کرنے کی کوشش کریں جو جھوٹ کی دھول سے اٹا پڑا ہے۔

​تبدیلی کا کوئی سفر باہر سے شروع نہیں ہوتا۔ جب تک ہمارے دلوں کی اقلیم میں سچائی کا سورج طلوع نہیں ہوگا، تب تک باہر کی دنیا میں اجالا ہونا ممکن نہیں۔ آئیے، آج مصلحتوں کے تمام نقاب اتار کر، اپنے وجود کے اندر جھانکیں اور اس "عکسِ دروں" کو پہچانیں جو ہماری اصل حقیقت ہے۔ وقت اب بھی ہے کہ ہم اپنے ظاہر اور باطن کو ایک کر لیں، قبل اس کے کہ موت کا بے رحم ہاتھ ہمارے اس سستے نقاب کو ہمیشہ کے لیے نوچ پھینکے اور ہم تاریخ کے دربار میں ننگے کھڑے رہ جائیں۔

 تحریر: انزلہ صدیقی

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر