وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری لی گئی۔ صدر مملکت نے سمری پر دستخط کیے اور ڈاکٹر فخر عالم کو نیا چیف سیکریٹری لگا دیا گیا۔ اب گورنر فیصل کریم کنڈی عبوری کابینہ کے ساتھ صوبے کا انتظام چلائیں گے، اور اس کے لیے انہوں نے رپورٹ جمع کرائی تھی۔ یہ وہی آئینی تقاضا ہے جو اٹھارہویں ترمیم نے رکھا تھا کہ فیصلہ گورنر کی رپورٹ کے بغیر نہ ہو۔ رپورٹس کے مطابق صوبے کی تاریخ میں یہ چوتھی بار ہے۔
اب تک کی اطلاعات تک سہیل آفریدی کو گرفتار کرلیا گیا ہے مگر ابھی تک سرکاری طورپر تصدیق نہیں ہوسکے۔ یہ وہی سہیل آفریدی ہیں جنہوں نے وزیراعلیٰ منتخب ہوتے ہی اعلان کیا تھا کہ ’نہیں مروں گا اب کسی جنگ میں، اب کی بار عشق عمران میں مارا جاؤں گا۔‘ اس طرح عمران خان کا کھلاڑی عمران خان کے نام پر’سیاسی شہید‘ بن گیا۔
اپنے مرشد تک رسائی اور دوائی کے لیے جدوجہد کرنے والا اب اپنی رہائی کے لیے سلاخوں کے پیچھے لڑتا نظر آئے گا۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ عمران خان کے لیے بدقسمتی کا باعث بنے گی۔ عمران خان کے ’لونڈے لپاڑے‘ کا جذباتی پن لے ڈوبا۔ اس وقت ایک ہی آواز جو ان کے حق میں اٹھ رہی تھی وہ خاموش کروا دی گئی۔
سیاست حکمت اور تدبر کا نام ہے نہ کہ جذباتیت کا۔ سیاست میں برداشت بھی بہت معنی رکھتی ہے جس کا شاید ہی ٹی آئی نے استعمال نہیں کیا۔ عمران خان کا مقدر ان ہاتھوں میں تھما دیا گیا جو خود ٹیکے لگوا کر پردیس میں جا بسے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ جس جملے پر سوشل میڈیا ہنس رہا تھا، وہ اب ہنسی سے نکل کر خبر بنتا دکھائی دیتا ہے۔ شعر جب سیاست میں بولا جائے تو کبھی کبھی اس کی قیمت بھی وصول کی جاتی ہے۔ تاہم "سیاسی شہید" کا بیانیہ بیانیہ ہی ہے۔ وہ پارٹی کو ہمدردی ضرور دے سکتا ہے، مگر ہمدردی نہ دفتر چلاتی ہے، نہ بجٹ بناتی ہے، نہ ریلی کو ٹرکوں کا کرایہ دیتی ہے۔ جس صوبائی حکومت کے وسائل پر احتجاج کی پوری تنظیم کھڑی تھی۔
آرٹیکل 234 کے تحت لگایا گورنر راج زیادہ سے زیادہ چھ تک چل سکتا ہے، بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ چند دنوں میں واپس ہو سکتا ہے۔ یہ امید ہے، پیش گوئی نہیں۔ جس فریق کے پاس ریاستی ادارے ہوں، وقت اسی کے ساتھ بیٹھتا ہے، اور اس بار وقت ایک آئینی سٹاپ واچ کی صورت میں کھڑا ہے جو چھ ماہ بعد خود بخود بند ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کی ناکامی، لانگ مارچ کا آغاز: کیا خیبر پختون خوا میں گورنر راج لگ سکتا ہے؟
صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے لیے وفاقی حکومت کے پاس ٹھوس دلیل تھی جو کام آئی وہ یہ کہ صوبہ دہشت گردی اور امن و امان کے بحران میں ہے اور صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔ گورنر راج کا اصل امتحان یہ ہے کہ اگلے چھ ماہ میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوتی ہے یا صرف سیاسی نقشہ بدلتا ہے۔ عدالتی چیلنج کی گنجائش پر بھی قانونی ماہرین کی رائے بٹی ہوئی ہے، کیونکہ آئین کا آرٹیکل 236(2) ایمرجنسی کے اعلان کو عدالت میں چیلنج کرنے سے روکتا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟ ایک صورت یہ کہ سیاسی دباؤ، عدالتی چیلنج یا مذاکرات سے چند دنوں یا ہفتوں میں فیصلہ نرم پڑ جائے۔ دوسری یہ کہ چھ ماہ پورے چلیں، جس میں پی ٹی آئی کو تنظیمی نقصان بھی ہو گا اور سیاسی ہمدردی بھی ملے گی۔ تیسری یہ کہ سڑک پر کوئی بڑا واقعہ دونوں فریقوں کا حساب بدل دے۔ ان تینوں میں سے کسی کا نتیجہ آج نہیں بتایا جا سکتا، اور جو بتائے وہ تجزیہ کار کم اور نجومی زیادہ ہے۔
میزبان بدل گیا ہے، مہمان وہی ہے جو آنا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ جاتا کب ہے، اور جاتے ہوئے گھر کا کیا حال کرتا ہے۔
پنجاب مردہ ہوچکا یا اس پر مریم نواز کی کارکردگی کی ’گرد‘ جم چکی ہے۔ سندھ کا ’بھٹو‘ نہیں مر رہا۔ بلوچستان آدھا مفلوج ہے۔ بقیہ پاکستان ویسے ہی بوٹ کے تسموں سے لٹکا ہے۔ جین زی منٹوں میں سوچتی ہے سیکنڈز میں ٹھس‘ ہو جاتی ہے۔ ایسے میں کچھ ہونا نہیں۔ بہتر ہے کہ وقت پر چھوڑ دیں وقت خود راستہ بنالے گا۔’







