موجودہ صدی کے آغاز پر ہم نے دیکھا کہ جنگیں خشکی اور فضا میں لڑی گئیں، مگراس وقت بڑی طاقتوں کی اصل دوڑ سمندروں میں جاری ہے۔ بحرِ ہند اس دوڑ کا سب سے اہم میدان بن چکا ہے، جہاں چین بحری طاقت ہے اور انڈیا بھی اپنے آپ کو ’چوہدری‘ سمجھتا ہے۔ پاکستان مقدار میں کم مگر معیار میں بہت بہتر ہے۔

بحرِ ہند اتنا اہم کیوں ہے؟

انڈیا کے لیے بحرِ ہند اس کا گھر کا آنگن ہے۔ اس کی تجارت، توانائی کی درآمدات، طویل ساحلی پٹی اور جزائر سب اسی سمندر سے جڑے ہیں۔ مبصرین اسے بھارتی بحریہ کا ’پچھواڑا‘ قرار دیتے ہیں جو انڈیا کے تزویراتی مفادات کے لیے نہایت اہم ہے۔

چین کے لیے بھی یہ سمندر شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے تیل اور تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، خصوصاً آبنائے ملاکا سے، جسے اکثر ’ملاکا ڈائلیما‘ کہا جاتا ہے، یعنی یہ خدشہ کہ کوئی حریف یہ راستہ بند کر سکتا ہے۔ چین کی حکمتِ عملی میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اس کے 2015 کے دفاعی وائٹ پیپر میں بحریہ کو ’ساحلی پانیوں کے دفاع‘ سے آگے بڑھ کر ’کھلے سمندروں کے تحفظ‘ کی طرف جانے کا کہا گیا۔

پاکستان بحریہ کے سابق کموڈور ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد کہتے ہیں کہ انڈیا کے ذہن پر ایک خبط سوار ہے کہ وہ خطے کا تھانیدار ہے، وہ اپنی بحریہ کو ضرورت سے زیادہ جنگی سازوسامان سے لیس کررہا ہے مگر وہ پاکستان سے خوفزدہ ہے۔

بھارت کو کس بات کا خوف ہے؟

بھارت کی تشویش کی جڑیں جغرافیہ اور تاریخ میں ہیں۔ بھارتی تجزیہ کار برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ چین ’اسٹرنگ آف پرلز‘ یعنی بندرگاہوں کا ایک سلسلہ بنا رہا ہے جو اس کی بحریہ کے کام آ سکتا ہے۔ ان میں میانمار میں کیاوکپیو، بنگلہ دیش میں چٹاگانگ، سری لنکا میں ہمبنٹوٹا اور کولمبو، اور پاکستان میں گوادر کے نام لیے جاتے ہیں۔

چین کا موقف ہے کہ یہ بندرگاہیں خالص تجارتی منصوبے ہیں۔ دوسری طرف بعض بھارتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ انہیں بحری اڈوں کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ 

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بندرگاہوں کو راتوں رات بحری اڈوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، مگر غیر یقینی صورتحال بذاتِ خود شکوک پیدا کرتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ چین کی قربت بھارت کی تشویش کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

ڈاکٹر ساجد محمود کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کی زبان میں اسے سکیورٹی ڈائلیما کہتے ہیں، یعنی ایک ملک کے دفاعی اقدامات دوسرے کو خطرہ محسوس ہوتے ہیں اور وہ جواب میں اپنی طاقت بڑھاتا ہے۔

بحری طاقت اثر و رسوخ کیسے بڑھاتی ہے؟

بحریہ صرف جنگی جہازوں کا نام نہیں، یہ سفارتی اور معاشی دباؤ کا ذریعہ بھی ہے، بحری جہازوں کو دور دراز علاقوں میں کام کرنے کے لیے بندرگاہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

ماہر بحری مفکر ماہان کے حوالے سے ایک تجزیہ کار کہتا ہے کہ رسد کے مراکز کے بغیر جہاز ان پرندوں کی طرح ہیں جو زمین سے دور اڑ نہیں سکتے۔ اسی لیے چین نے جبوتی میں اور بھارت نے سیشلز کے اسمپشن جزیرے پر اپنی بحری سہولیات کو فروغ دیا ہے۔

 بھارت نے فرانس اور امریکہ کے ساتھ ایسے معاہدے کیے ہیں جن کے تحت ایک دوسرے کی بحری بندرگاہیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔

سری لنکا جیسے چھوٹے ممالک دونوں بڑی طاقتوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر کے اپنے لیے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یعنی یہ مقابلہ پورے خطے کی سیاست کو متاثر کرتا ہے۔ مضبوط بحریہ حریف کو جارحیت سے باز رکھنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔

کشیدگی کم کرنے کے دو راستے

ممالک بحری ہاٹ لائن قائم کر سکتے ہیں، بڑی مشقوں سے پہلے اطلاع دے سکتے ہیں اور سمندر میں آمنا سامنا ہونے پر مشترکہ اصول طے کر سکتے ہیں۔ اس سے غلط فہمیاں کم ہوں گی۔

بحری قزاقی کی روک تھام، تجارتی راستوں کا تحفظ اور قدرتی آفات میں امداد ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں کا فائدہ ہے۔ علاقائی پلیٹ فارمز، جیسے انڈین اوشن رم ایسوسی ایشن، کے ذریعے معلومات کا تبادلہ اور بندرگاہی منصوبوں میں شفافیت چھوٹے ممالک کو بھی اعتماد دے سکتی ہے۔

ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد کا مزید کہنا تھا کہ چین کی پالیسی پرامن ہے، چین اپنی تجارت کو فروغ دے رہا ہے، انڈیا کی طرف سے پروپیگنڈا اس کے اپنے خوف کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے پیچھے اس کے مذموم مقاصد بھی ہوسکتے ہیں۔

بحرِ ہند کی یہ کشمکش ضروری نہیں کہ تصادم پر ختم ہو۔ اگر دونوں ممالک طاقت کے ساتھ ساتھ دانش مندی سے کام لیں تو یہ مقابلہ منظم اور محدود رہ سکتا ہے۔ آخرکار دونوں کا مفاد اسی میں ہے کہ سمندری راستے کھلے اور محفوظ رہیں۔