عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیوم اسٹیڈیم کو سعودی عرب کے بڑے اور جدید منصوبے ’دی لائن‘ میں بلند مقام پر تعمیر کیا جانا تھا۔ 160 کلومیٹر طویل ’دی لائن‘ شیشے اور اسٹیل سے تیار کیا جانے والا جدید ڈھانچہ ہے، جب کہ نیوم منصوبہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کا اہم حصہ ہے۔

وژن 2030 کے تحت سعودی عرب کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور تیل پر انحصار کم کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’دی لائن‘ منصوبے میں تاخیر اور اس کے حجم میں کمی کے بعد نیوم اسٹیڈیم کا منصوبہ بھی روک دیا گیا ہے۔ نیوم اور سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

2034 کا فیفا ورلڈ کپ سعودی عرب کے لیے ایک اہم عالمی ایونٹ ہے۔ سعودی عرب ورلڈ کپ کے لیے پانچ شہروں میں 15 اسٹیڈیمز کی تعمیر یا تزئین و آرائش کے علاوہ درجنوں تربیتی مراکز بھی تیار کر رہا ہے۔

تعمیراتی شعبے کے اعداد و شمار کے مطابق ورلڈ کپ سے متعلق ان منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 22.7 ارب ڈالر ہے۔

’میڈ انڈسٹری‘ کے مطابق نیوم اسٹیڈیم کی متوقع لاگت 2.5 ارب ڈالر تھی، جبکہ اس میں 46 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ تاہم اس منصوبے کو فی الحال روک دیا گیا ہے اور اس کی تکمیل کے لیے کوئی نئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

دوسری جانب سعودی عرب کو معاشی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ ملک کو ایران جنگ، توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث اضافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حکام نے رواں سال سعودی عرب کے مالی خسارے کے توقع سے زیادہ رہنے اور حقیقی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.6 فیصد کمی کی پیش گوئی کی ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی خودمختار دولت فنڈ بڑے اور مہنگے منصوبوں کے بجائے ایسے منصوبوں پر توجہ منتقل کر رہا ہے جو نسبتاً جلد مالی منافع فراہم کر سکیں۔

نیوم اسٹیڈیم کا منصوبہ روکنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب 2034 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور کھیلوں سے متعلق منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔