سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ دیگر تمام معاملات اور مذاکرات کے دوران پیدا ہونے والے شور کو ایک طرف رکھا جائے تو مذاکرات تقریباً صبح 3 بجے انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر اختلاف کے باعث ناکام ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی مذاکراتی ٹیم اپنے اس اصولی مؤقف پر قائم رہی کہ خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات وفاقی اور صوبائی حکومت کے باہمی اتفاقِ رائے سے کیے جائیں، جب کہ صوبائی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت اور رضامندی حاصل کی جائے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم اس مؤقف سے متفق نہیں تھی اور اس کا اصرار تھا کہ وفاق اور اس کے اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف صوبے میں کیے جانے والے تمام اقدامات اور آپریشنز کی ذمہ داری خیبر پختونخوا حکومت قبول کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ضم شدہ اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں 72 گھنٹوں کے اندر ہنگامی نوعیت کے اقدامات نافذ کرنے کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت سے قبول کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے واضح کیا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی اور اس کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بے گناہ شہریوں کے جانی نقصان اور مقامی آبادی کی اندرونی نقل مکانی کی مخالفت کی جائے گی۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں اور اقدامات کو مقامی آبادی کی حمایت حاصل ہونی چاہیے اور کارروائیاں زمینی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں صوبے کے سیاسی اور قبائلی عمائدین، بشمول ضم شدہ اضلاع، کے جرگے کی تجاویز اور تجربے کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

سلمان اکرم راجا کے مطابق پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے وفاق اور صوبے کو باہمی مشاورت، سیاسی جماعتوں کی تجاویز اور مقامی عمائدین کی رائے کی بنیاد پر مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی، تاہم وفاقی حکومت اس طریقۂ کار کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھی۔

سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کا بنیادی مقصد عمران خان تک فوری رسائی، انہیں شوکت خانم انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنا اور ذاتی معالج کی شمولیت کے ساتھ میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کی تشخیص اور علاج تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم منگل کو عمران خان کے لیے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کی بحالی سے آگے کوئی پیشکش کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج لکی مروت سے شروع کرنے کا اعلان

حکومت کی جانب سے مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 72 گھنٹوں کے اندر تحریری معاہدے اور اس پر عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم مذاکرات کے آخری مرحلے میں وہ ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ مجوزہ نکات میں پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گرد گروہوں کی مذمت، انسدادِ دہشت گردی کے لیے صوبائی ذمہ داری قبول کرنا، مسلح افواج سے تعاون، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت اور قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد شامل تھا۔

خیال رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کئی گھنٹوں کے بعد ڈیڈلاک کا شکار ہوگیا تھا۔ مذاکرات کے بعد حکومتی ارکان نے انسدادِ دہشت گردی میں خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون کو بنیادی مسئلہ قرار دیا، جب کہ پی ٹی آئی نے اپنے اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان برقرار رکھا ہے۔