اتوار کو جاپان کے مِزوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم میں 20ویں ایشین گیمز کا میلہ رنگا رنگ تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، جہاں شریک ممالک کے پرچموں کا مارچ پاسٹ ہوا اور فنکاروں کی پرفارمنس نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔
اختتامی تقریب میں اولمپک کونسل آف ایشیا کے صدر شیخ جوعان بن حمد آل ثانی نے کھیلوں کے اختتام کا اعلان کیا، جبکہ ایشین گیمز کی مشعل 2030 کے میزبان قطر کے حوالے کردی گئی۔
ایچی ناگویا ایشین گیمز میں تقریباً 17 ہزار ایتھلیٹس اور آفیشلز نے شرکت کی، جبکہ ٹوکیو سے اوساکا تک مختلف مقامات پر 43 کھیلوں کے 469 گولڈ میڈل مقابلے ہوئے۔
بڑے پیمانے پر ہونے والے ان مقابلوں کے دوران منتظمین کو رہائش اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا رہا۔ مختلف ٹیموں نے رہائش کے انتظامات اور سفری سہولیات سے متعلق شکایات کیں، جس پر منتظمین کو متعدد مرتبہ معذرت کرنا پڑی۔
انتظامی مسائل کے باوجود ایشین گیمز میں کم عمر کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی نے توجہ حاصل کی۔ چین کی 13 سالہ تیراک یو زیڈی کو گیمز کی بہترین خاتون کھلاڑی قرار دیا گیا۔ انہوں نے تیراکی میں 3 انفرادی گولڈ میڈلز جیتے اور 200 میٹر انفرادی میڈلے میں بھی کامیابی حاصل کی۔
چین کے 19 سالہ تیراک ژانگ ژانشوؤ نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایشین گیمز کے ایک ہی ایڈیشن میں 7 گولڈ میڈلز جیتنے والے پہلے تیراک کا اعزاز حاصل کیا۔ جاپان کے 17 سالہ تیراک شن اوہاشی نے 200 میٹر بریسٹ اسٹروک میں عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔
ایتھلیٹکس میں چین کی 18 سالہ یان زیئی نے خواتین کے جیولین تھرو میں گولڈ میڈل جیتا، جب کہ تھائی لینڈ کے 20 سالہ اسپرنٹر پوریپول بونسن نے 100 اور 200 میٹر ریس میں گولڈ میڈلز جیت کر مردوں کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔
منتظمین نے اخراجات کم رکھنے کے لیے روایتی ایتھلیٹس ولیج تعمیر کرنے کے بجائے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے ہوٹلز، لکڑی کے کنٹینر یونٹس اور ایک کروز شپ کا انتظام کیا تھا۔
منتظمین نے تقریباً 15 ہزار ایتھلیٹس اور آفیشلز کے لیے انتظامات کیے تھے، تاہم رجسٹریشن کی تعداد اس سے تقریباً 2 ہزار زیادہ رہی، جس کے باعث انتظامی مشکلات پیدا ہوئیں۔ کئی کھلاڑیوں کو آمد کے بعد رجسٹریشن کے لیے 12 گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا، جب کہ بعض کو ایسے کمرے ملے جو پہلے سے کسی اور کے نام پر بک تھے یا جہاں انہیں غلط ساتھیوں کے ساتھ کمرے شیئر کرنا پڑے۔
ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی کھیلوں کے دوران برقرار رہے۔ بعض اوقات شٹل بسیں مقررہ وقت پر نہیں پہنچیں، جب کہ کچھ کھلاڑیوں کو غلط مقامات پر پہنچا دیا گیا، جس کے باعث متعدد مقابلے تاخیر کا شکار ہوئے۔
جنوبی کوریا کے وفد نے انتظامات پر خاص طور پر تحفظات کا اظہار کیا، جب کہ فٹبال کا گولڈ میڈل جیتنے کے بعد جنوبی کوریا کی مردوں کی ٹیم کے اعزاز میں قومی ترانہ بجانے کے موقع پر ملک کا پرچم بھی نہ لہرایا جاسکا۔ ایک اور موقع پر جنوبی کوریا کی مردوں کی ہاکی ٹیم کے لیے شمالی کوریا کا قومی ترانہ بجایا گیا۔
جاپان میں 5 سال بعد ہونے والے بڑے کثیرالاسپورٹس ایونٹ میں شائقین کی تعداد بھی توقعات کے مطابق نہ رہی۔ خواتین کے فٹبال سیمی فائنل میں میزبان جاپان اور جنوبی کوریا کے میچ کو 50 ہزار افراد کی گنجائش والے اسٹیڈیم میں ایک ہزار سے بھی کم تماشائیوں نے دیکھا۔
کئی چھوٹے وینیوز میں بھی شائقین کی تعداد کم رہی، جب کہ بعض مقامات شہر سے دور ہونے کے باعث وہاں رسائی بھی ایک مسئلہ بنی۔ تاہم اولمپک کونسل آف ایشیا نے ایچی ناگویا ایشین گیمز کو کامیاب قرار دیتے ہوئے منتظمین کے کم خرچ انتظامات کو سراہا۔
چین نے 169 گولڈ سمیت مجموعی طور پر 341 میڈلز جیت کر میڈلز ٹیبل میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جو بیرون ملک ہونے والے ایشین گیمز میں چین کا بہترین مجموعی ریکارڈ ہے۔
جاپان نے 83 گولڈ سمیت مجموعی طور پر 269 میڈلز جیتے، جو 1994 کے ہیروشیما ایشین گیمز کے بعد ملک کا بہترین میڈلز ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا 39 گولڈ، 43 سلور اور 68 برانز میڈلز کے ساتھ تیسری پوزیشن پر رہا۔
پاکستان نے ایشین گیمز میں مجموعی طور پر 10 میڈلز جیتے، جن میں 2 سلور اور 8 برانز میڈلز شامل ہیں اور میڈلز ٹیبل پر 29ویں پوزیشن حاصل کی۔
اس بار ایشین گیمز میں پیڈل، مکسڈ مارشل آرٹس، ٹیک بال اور سرفنگ سمیت کئی کھیل پہلی مرتبہ شامل کیے گئے، جب کہ مجموعی طور پر 43 کھیلوں کے مقابلے ہوئے۔
2030 کے ایشین گیمز کی میزبانی قطر کرے گا، تاہم اولمپک کوالیفائرز کے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے ایونٹ کو 2031 تک مؤخر کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔







