سب سے پہلے سمجھتے ہیں کہ یہ وائرس کرتا کیا ہے۔ اپنے جسم کو ایک قلعہ سمجھ لیں اور اس کی حفاظت کرنے والی فوج کو مدافعتی نظام یعنی امیون سسٹم کہیں۔ اس فوج میں کچھ خاص خلیے ہوتے ہیں، جنہیں سی ڈی 4 سیلز کہا جاتا ہے۔ انہیں فوج کے کمانڈرز سمجھ لیں۔ جب بھی کوئی بیکٹیریا یا وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ خلیے مدافعتی نظام کے دوسرے خلیوں کو اسے ختم کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
لیکن ایچ آئی وی براہِ راست انہی کمانڈرز کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ ان خلیوں سے جڑتا ہے، ان کے اندر داخل ہوتا ہے اور اپنا جینیاتی کوڈ ان کے ڈی این اے میں شامل کر دیتا ہے۔ اس کے بعد یہ خلیے اپنے لیے نہیں بلکہ وائرس کے لیے کام کرنے لگتے ہیں۔ وہ ہزاروں نئے وائرس بناتے ہیں اور آخرکار خود مر جاتے ہیں۔ پھر نئے وائرس دوسرے خلیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
شروع کے کچھ ہفتوں میں ہلکا بخار یا فلو جیسی علامات محسوس ہوسکتی ہیں، لیکن اس کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق لگنے لگتا ہے۔ تاہم جسم کے اندر یہ جنگ جاری رہتی ہے، کئی سال تک اور بعض اوقات تقریباً 10 سال تک۔ آہستہ آہستہ سی ڈی 4 سیلز کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے جب مدافعتی نظام اتنا کمزور ہوجاتا ہے کہ عام بیماریاں بھی خطرناک بن جاتی ہیں۔
ٹی بی اور نمونیا جیسے انفیکشن، جن سے ایک صحت مند جسم آسانی سے لڑ سکتا ہے، وہ بھی جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی مرحلے کو ایڈز کہا جاتا ہے۔ یعنی ایچ آئی وی خود براہِ راست جان نہیں لیتا بلکہ جسم کے مدافعتی نظام کو اتنا کمزور کردیتا ہے کہ دوسری بیماریاں جان لیوا بن جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی افریقہ میں چمپینزی سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ یہ متاثرہ خون، ایک ہی سوئی استعمال کرنے یا ماں سے بچے کو حمل کے دوران منتقل ہوسکتا ہے۔ تاہم ہاتھ ملانے، گلے لگنے یا ایک ساتھ کھانا کھانے سے ایچ آئی وی بالکل نہیں پھیلتا۔
سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اگرچہ فی الحال اس کا مکمل علاج موجود نہیں، لیکن مؤثر ادویات موجود ہیں۔ روزانہ دوا لینے سے وائرس کی مقدار اتنی کم ہوسکتی ہے کہ ٹیسٹ میں بھی نظر نہ آئے۔ ایسا شخص معمول کے مطابق طویل زندگی گزار سکتا ہے اور وائرس اپنے پارٹنر تک بھی منتقل نہیں کرتا۔
آج پوری دنیا میں تقریباً چار کروڑ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد آبادی کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں۔







