انڈین میڈیا کے مطابق چیف جسٹس مہیش چندرا ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت 2 نومبر تک ملتوی کردی، جب کہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انیل سنگھ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اس دوران عمران خان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

عمران خان کے وکیل وینکٹیش دھونڈ نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ایف آر آر او کے نوٹس کے تحت اداکار کو 28 اکتوبر تک انڈیا چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس پر عدالت نے نوٹس کو اگلی سماعت تک معطل رکھنے کا حکم دیا۔

تنازع کیسے شروع ہوا؟

عمران خان کے خلاف معاملہ 10 اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا جب ممبئی کے تاریخی اگست کرانتی میدان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے دوران انہیں حراست میں لیا گیا۔ مظاہرین ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر احتجاج کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق عمران خان کے ساتھ ان کی پارٹنر لیکھا واشنگٹن اور کزن زین میری خان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کرٹ سومیا نے پولیس کو شکایت دی کہ عمران خان امریکی شہری ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

معاملہ ایف آر آر او کو بھیجے جانے کے بعد اداکار کو انڈیا چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا گیا۔ حکام کا مؤقف تھا کہ اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ رکھنے کے باوجود سیاسی احتجاج میں شرکت کرنا غیر ملکی شہریوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔

عمران خان کا مؤقف کیا ہے؟

عامر خان کے بھانجے اور امریکی شہری عمران خان نے ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں نوٹس کو غیر قانونی، من مانا اور غیر متناسب قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کی استدعا کی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان احتجاج میں شریک نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی ان کا منتظمین سے کوئی تعلق تھا۔ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیے بغیر انڈیا چھوڑنے کا حکم جاری کیا گیا۔

عمران خان نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ درخواست پر حتمی فیصلے تک نوٹس پر عمل درآمد روکا جائے اور حکام کو ان کے خلاف کسی بھی سخت کارروائی سے باز رکھا جائے۔

اداکار کو انڈیا چھوڑنے کے نوٹس کے علاوہ ایک علیحدہ شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ ان کا او سی آئی کا درجہ منسوخ کیوں نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ بمبئی ہائی کورٹ نے فی الحال انڈیا چھوڑنے کے حکم کو معطل کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت 2 نومبر کو سہ پہر 3 بجے مقرر کی ہے۔