لائیو

بس بہت ہوگیا، دہشت گرد ہتھیار ڈالیں یا آپریشن کا سامنا کریں، فوجی ترجمان

اظہر تھراج
DG ISPR, Ahmad Sharif Choudhary, Terrorists, Balochistan, KP, No Deal, Pakistan Matters31 جولائی، 2026

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں افغان دہشت گردوں کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ رواں سال ہونے والے 28 خودکش حملوں میں سے زیادہ تر خودکش بمبار افغان شہری تھے، جب کہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے حالیہ حملوں میں بھی افغان دہشت گرد ملوث تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے رواں سال اب تک مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تصدیق شدہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے اور ان کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال اب تک دہشت گردی کے باعث مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 194 اہلکار جبکہ 322 عام شہری شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہزار 971 خیبرپختونخوا، ایک ہزار 148 بلوچستان جبکہ 26 واقعات ملک کے دیگر حصوں میں پیش آئے۔

انہوں نے دہشت گردی کے اعداد و شمار کا گزشتہ سال سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ رواں سال ابھی تقریباً نصف عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے، جبکہ دہشت گردی کی سرپرستی اور سہولت کاری کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا رہی ہیں۔

سہولت کاری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں، 2023 میں شہداء کی تعداد اور تناسب زیادہ تھا، تاہم اب دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوال بجا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ کیوں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف دباؤ اور آپریشنز میں شدت پیدا کی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جب دہشت گردوں کی براہِ راست حکمت عملی ناکام ہوئی تو انہوں نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے اپنی سرگرمیوں اور معاونت کا دائرہ بڑھا لیا۔

سردارانہ نظام، اسمگلنگ اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بعض بااثر عناصر کی اصل پریشانی یہ ہے کہ ریاست اب ماضی کی طرح انہیں خصوصی رعایت یا خوشامد نہیں دے رہی، یہ عناصر چاہتے ہیں کہ ریاست دوبارہ پرانے طریقہ کار پر واپس آئے، ان سے مذاکرات کرے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔

دد اہلکار ان کی ذاتی حفاظت اور مفادات کے لیے تعینات رہتے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بعض عناصر نے تجارت کی آڑ میں اسمگلنگ، منشیات اور غیر قانونی ڈیزل کے کاروبار سے بھی فائدہ اٹھایا۔ جب ریاست نے ان سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو انہی عناصر نے دہشت گردی اور بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کی اور یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ بلوچستان ریاست کے کنٹرول سے نکل رہا ہے تاکہ دوبارہ انہیں مراعات اور وسائل میں حصہ دیا جائے۔

تازہ اپڈیٹس

  1. بلوچستان میں احساسِ محرومی کا بیانیہ حقائق کے برعکس ہے، فوجی ترجمان

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں احساسِ محرومی کا تاثر ایک منظم پروپیگنڈے کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے، جس کے لیے پہلے مخصوص مواد (کنٹینٹ) تیار کیا جاتا ہے، پھر اسی کی بنیاد پر ایک بیانیہ تشکیل دے کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر صرف گوادر کی مثال لی جائے، جس کی آبادی تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہے، تو وہاں تین جامعات، چار ایجوکیشن کالجز، 318 اسکول، بلوچستان کے بڑے اسپتالوں میں شمار ہونے والا پاک چین فرینڈشپ اسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، رورل ہیلتھ سینٹر، پانچ چلڈرن ڈسپنسریاں، 19 بنیادی مراکز صحت، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، گوادر بندرگاہ، ایکسپریس وے، انڈسٹریل اور ٹیکس فری زونز سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے موجود ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اسی طرح تربت، جس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ ہے، میں دو جامعات، چھ ایجوکیشن کالجز، کیڈٹ کالجز، گرلز کیڈٹ کالج، سیکڑوں تعلیمی ادارے، ایک ٹیچنگ اسپتال، 27 نجی اسپتال، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، جدید سڑکوں کا جال اور کاروباری سرگرمیوں کے مواقع موجود ہیں۔

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کے دیگر صوبوں، خصوصاً جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ یا دیہی خیبرپختونخوا کے کتنے شہروں میں اسی درجے کی سہولتیں دستیاب ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان میں صرف 363 اسکول موجود تھے، جبکہ آج صوبے میں 12 جامعات، 5 میڈیکل کالجز، 145 کالجز، 13 کیڈٹ کالجز، 321 ٹیکنیکل ادارے اور ہزاروں تعلیمی مراکز قائم ہو چکے ہیں۔

    صحت کے شعبے میں ترقی کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان میں صرف تین بڑے اسپتال اور چھ ڈسپنسریاں تھیں، جبکہ آج صوبے میں 13 بڑے اسپتال، 18 ٹیچنگ اسپتال، 36 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، 756 بنیادی مراکز صحت، 650 ڈسپنسریاں، پانچ کارڈیک سینٹرز، آٹھ ٹی بی سینٹرز اور درجنوں دیگر طبی مراکز عوام کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

  2. لاپتا افراد سے متعلق 9 ہزار سے زائد کیس نمٹائے جا چکے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ لاپتا افراد کے معاملے پر بھی حقائق کے برعکس بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے، جبکہ حکومت نے اس مقصد کے لیے باقاعدہ کمیشن قائم کر رکھا ہے، جہاں ہر کیس کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے لاپتا ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کا نام، شناختی کارڈ، والد کا نام اور دیگر تفصیلات کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ ان کی تحقیقات ہو سکیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2010 کے اوائل میں لاپتا افراد کا کمیشن قائم ہونے کے بعد اب تک مجموعی طور پر 10 ہزار 901 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 9 ہزار 372 کیس نمٹا دیے گئے، جبکہ ایک ہزار 529 کیسز پر کارروائی جاری ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ نمٹائے گئے مقدمات میں تقریباً 4 ہزار 896 افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ تقریباً 730 افراد مختلف جیلوں یا حراستی مراکز میں موجود پائے گئے۔ اسی طرح 308 افراد کے انتقال کی تصدیق ہوئی، جبکہ تقریباً 2 ہزار 400 کیسز میں تفصیلی تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوا کہ انہیں لاپتا افراد کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے سب سے زیادہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، لیکن کمیشن کے پاس صوبے سے مجموعی طور پر تقریباً 2 ہزار 933 کیسز آئے، جن میں سے 2 ہزار 767 نمٹا دیے گئے اور صرف 166 کیسز زیرِ التوا ہیں۔

مزید خبریں