لائیو

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بدستور جاری: کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہ ہو تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے، ایران

نیوز ڈیسک
Strait of Hormuz8 اگست، 2026

ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد سے اب تک حالات کشیدہ ہیں، آبنائے ہرمز بند ہے، نئے تجارتی راستوں کی تلاش اور ایران، امریکا مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےکہا ہےکہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک نئے راستےکے معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران اور مسقط اس وقت آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستے کے قیام پر بات چیت کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا معاملہ صرف نئے بحری راستے کے قیام تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لیے دیگر شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان شرائط میں امریکی خلاف ورزیوں پر ایران کو معاوضے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان اس وقت عارضی بحری راستے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کسی ممکنہ انتظام کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔

تازہ اپڈیٹس

  1. ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر کا غیر ملکی فوجی دستوں کے مکمل انخلا کا مطالبہ

    ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی نے خطے سے تمام غیر ملکی فوجی دستوں کے مکمل انخلا کا مطالبہ کردیا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں علی اکبر ولایتی نے کہا کہ خطے میں حالیہ پیش رفت ایران کی مسلح افواج کی ثابت قدمی، ایرانی عوام کے عزم اور مزاحمت کی جرات کا نتیجہ ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی مبینہ ناکامی اس بات کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہےکہ غیر ملکی افواج جو خطے میں عدم استحکام کا بنیادی سبب ہے، مکمل طور پر خطے سے نکل جائیں۔

    ولایتی نےکہا کہ علاقائی ممالک باہمی تعاون میں اضافےکے ذریعے خطے کی سلامتی خود یقینی بنا سکتے ہیں۔

  2. امریکا اور ایران کے مذاکرات پاکستان نے کروائے، بات چیت جاری، ثالث ناکام نہیں ہوا، مبصرین

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا ثالثی کا کردار اہم رہا، پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    جنوبی ایشیاکی سکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی صورتحال سے متعلق پالیسی پلیٹ فارم ساؤتھ ایشین وائسز کے تجزیے کے مطابق پاکستان نے ایسے وقت میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ قائم کیا جب دونوں فریق شدید کشیدگی اور باہمی نقصان کے مرحلے میں پہنچ چکے تھے۔

    تجزیےکے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کرکے ایک عالمی طاقت اور ایک اہم علاقائی طاقت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی اور وہ سفارتی کردار ادا کیا جو چین، فرانس، جرمنی، بھارت اور برطانیہ جیسی بڑی طاقتیں بھی ادا نہ کرسکیں۔

    ادارے کے تجزیے کے مطابق اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان 20 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا براہِ راست رابطہ قرار دیےگئے۔

    تجزیے کے مطابق امریکا اور ایران نے جنگ بندی کے حوالے سے ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے تاہم دونوں نے مذاکراتی عمل مکمل طور پر ترک نہیں کیا، اس لیے ثالث کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔

مزید خبریں