لائیو

اتوار کو کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں دھرنوں کا اعلان، حکومت بھی میدان میں آگئی

نیوز ڈیسک
اتوار کو کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں دھرنوں کا اعلان، حکومت بھی میدان میں آگئی7 اگست، 2026

اسلام آباد میں جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا آغاز کر دیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرے کی قیادت جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ، سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم، نصراللہ رندھاوا اور زبیر صفدر کر رہے ہیں۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے ساتھ لوگ شریک ہوئے، جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے موٹروے بھی بند کر دی۔

دھرنے کے دوران پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکن آمنے سامنے آگئے۔ پولیس کی جانب سے کارکنوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی، جس پر لیاقت بلوچ نے پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پرامن لوگوں کو تشدد کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے ایسے رویے کی وجہ سے عوام میں فورسز کے خلاف نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ ان کے بقول عوام اپنا حق مانگ رہے ہیں اور انہیں احتجاج کا حق حاصل ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں غربت ناقابل برداشت ہو چکی ہے، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے عوام بھی احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکمران بات چیت کے لیے تیار نہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج حافظ نعیم الرحمن کی کال پر قوم نے لبیک کہا ہے اور ملک بھر میں 510 مقامات پر اسی طرح کے دھرنے جاری ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام سے پٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمت وصول کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران ہی "بھتہ خوری" کریں گے تو معیشت کیسے چل سکتی ہے۔

لیاقت بلوچ نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ملک کی فکر کریں اور ملکی حالات کو سمجھیں۔"

انہوں نے موجودہ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "فارم 47 پر کھڑی حکومت کی کوئی ساکھ نہیں۔"

دوسری جانب جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام پر ایک ظالم طبقہ مسلط ہے اور ظلم کے اس نظام کا خاتمہ ہوگا۔

لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ملک میں کل گڈز ٹرانسپورٹ نے ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے، جو ان کے بقول عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کو تباہ کرنے والے خود بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام ڈوب رہا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔

تازہ اپڈیٹس

  1. نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا ہے کہ محسن نقوی نے بہت باتیں کہہ دی ہیں، تاہم حکمران ملک میں موجودہ نظام کو اسی طرح چلائے رکھنا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی قیادت اپنے اپنے مسائل اور بیانیوں میں الجھی ہوئی ہے اور اسے عوام کی کوئی فکر نہیں۔

    لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی آئین کی بالادستی چاہتی ہے۔ ان کے بقول 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدالت کا "سر قلم" کر دیا گیا۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 225 روپے فی لیٹر کی جائیں۔

    لیاقت بلوچ نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لیوی کی شکل میں "بھتہ خوری" بند کرنی چاہیے۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران آئی ایم ایف کا بہانہ بنا کر غلط بیانی کرتے ہیں، جبکہ ان میں بیوروکریسی اور حکمرانوں کی عیاشیاں ختم کرنے کی ہمت نہیں ہے۔

  2. لاہور میں جماعت اسلامی نے مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف قرطبہ چوک پر احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔

    دھرنے کے باعث فیروز پور روڈ، جیل روڈ، کوئنز روڈ، لٹن روڈ اور بہاولپور روڈ کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ کارکنوں اور شہریوں کی دھرنے میں آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

    قرطبہ چوک پر چاروں اطراف سے آنے اور جانے والی سڑکوں پر جماعت اسلامی کے کارکنوں نے دھرنے شروع کر دیے ہیں، جس کے باعث شہر میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی بھی لاہور میں جاری دھرنے میں شرکت متوقع ہے۔

  3. کراچی: جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف شاہراہ فیصل پر احتجاج

    کراچی میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا، جس سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے خطاب کیا۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ شاہراہ فیصل پر نوجوانوں کی بڑی تعداد اس بات کی علامت ہے کہ حکمرانوں نے ملک کے ساتھ "معاشی دہشت گردی" کی ہے۔ ان کے بقول ملک میں نہ سیاسی استحکام ہے اور نہ معاشی استحکام۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں جاگیرداروں، وڈیروں اور خان خوانین کا راج ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو انگریزوں سے آزادی تو مل گئی، لیکن آج "انگریزوں کے غلام" ملک پر حکمران بنے ہوئے ہیں۔

    منعم ظفر خان نے موجودہ حکومت کو "فارم 47 کی پیداوار" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی حکومت نے کراچی کی میئر شپ پر بھی قبضہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ظلم کے خلاف توانا آواز صرف حافظ نعیم الرحمن کی ہے اور یہی آواز پورے پاکستان کے عوام کو متحد کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ملک بھر کے عوام نے جماعت اسلامی کی آواز پر لبیک کہا اور 510 اہم شاہراہیں بند کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    منعم ظفر خان نے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ انہیں عوام کے احتجاج سے "نوشتہ دیوار" پڑھ لینا چاہیے اور شاہانہ اخراجات اور عیاشیاں ختم کرنا ہوں گی۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی اور اس تحریک کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

    ان کے مطابق کراچی کے عوام نے موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں روک کر احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ شہر کے تمام اضلاع سے قافلے شاہراہ فیصل پر پہنچے ہیں۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ ظلم کے خلاف اہل کراچی کل بھی بیدار تھے اور آج بھی بیدار ہیں۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ مغرب کی نماز کے بعد احتجاج کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

  4. کراچی میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پٹرولیم لیوی کے خلاف شاہراہ فیصل پر احتجاجی کیمپ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ احتجاجی سلسلہ شام چار بجے سے جاری ہے۔

    جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کی کال پر اہل کراچی بھی ملک کے دیگر شہریوں کی طرح سراپا احتجاج ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ حکومتیں ٹیکس کے بغیر نہیں چل سکتیں، تاہم جماعت اسلامی ٹیکس دینے سے انکار نہیں کرتی بلکہ پٹرولیم لیوی کو "بھتہ ٹیکس" قرار دیتے ہوئے اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

    محمد فاروق نے کہا کہ اہل کراچی وفاقی حکومت کے خلاف شاہراہ فیصل بلاک کرکے احتجاج کر رہے ہیں۔

    انہوں نے ان افراد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بقول شاہراہ فیصل پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی بات کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج وہ لوگ کہاں ہیں۔

    رکن سندھ اسمبلی نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے جس کا 2025 کا بجٹ عوام کے ووٹوں سے منظور ہوا تھا اور جس کے ووٹوں سے آصف علی زرداری صدر منتخب ہوئے۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت میں شامل لوگ عوام کے سامنے "نورا کشتی" کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب عوام کا استحصال جاری ہے۔

    محمد فاروق نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی۔

    ان کے مطابق عوام پٹرولیم لیوی کی مد میں 900 ارب روپے ادا کر چکے ہیں اور اب حکومت کو یہ لیوی ختم کرنا ہوگی۔

  5. نیپرا نے ملک بھر کیلئے بجلی 75 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی

    اعلامیے کے مطابق  بجلی جون کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی، ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پربھی ہوگا، اضافےکا اطلاق رواں ماہ اگست کے بلوں میں کیا جائے گا۔

    سی پی پی اے نے جون کی ایڈجسٹمنٹ میں ایک روپے 20 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا تھا، اس سے پہلے مئی کی ایڈجسٹمنٹ میں ملک بھرکیلئے بجلی34 پیسے مہنگی کی گئی تھی۔

  6. جڑانوالا میں عوام اپنے حق کے لیے نکل آئے

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر جڑانوالہ میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے 240 موڑ چوک سے سیدوالہ اور موٹروے ایم-3 کی جانب جانے والی مرکزی سڑک بلاک کر دی، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

    احتجاج میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے پیٹرول لیوی اور دیگر ٹیکسز کے خاتمے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کا مطالبہ کیا۔

    احتجاج کے دوران شرکاء کا کہنا تھا کہ جب تک جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت احتجاج ختم کرنے کی ہدایت نہیں دیتی، مظاہرہ جاری رہے گا۔

    اس موقع پر جماعت اسلامی تحصیل جڑانوالہ کے امیر ڈاکٹر سعید نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرول لیوی فوری ختم کی جائے اور پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

  7. دھرنوں سے روکنے کے لیے حکومت کا جماعت اسلامی سے رابطہ

    پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر احتجاج کے بعد حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطہ کرلیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ملکی معاشی صورتحال پر بریفنگ کی پیشکش کی۔

    ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے احتجاج اور عوامی ردعمل کو اہمیت دیتے ہوئے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ احسن اقبال نے لیاقت بلوچ کو ملکی معاشی حالات، حکومتی اقدامات اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے بریفنگ کی پیشکش کی۔

    دوسری جانب لیاقت بلوچ نے حکومتی مؤقف سننے کے ساتھ جماعت اسلامی کے تحفظات بھی واضح طور پر سامنے رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں، ایسے حالات میں پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

    لیاقت بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اور اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے مہنگائی پر قابو پانے کے عملی اقدامات کیے جائیں، عوام کی قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے اور حکومت کو عوامی مشکلات کا فوری ازالہ کرنا ہوگا۔

    جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی میں اضافے اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف گزشتہ روز ملک گیر احتجاج کی کال دی تھی۔ احتجاج کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں کارکنوں نے اہم شاہراہوں اور راستوں پر دھرنے دیے، جس کے باعث متعدد مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

    جماعت اسلامی کے مطابق ملک بھر میں 510 مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں کی گئیں، جبکہ مختلف شہروں میں اہم سڑکوں اور شاہراہوں کی بندش کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور لیوی کے بوجھ کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔ جماعت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی بوجھ واپس لیا جائے اور بجلی کے بلوں میں بھی عوام کو ریلیف دیا جائے۔

    ملک گیر احتجاج کے بعد حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطہ سیاسی اور انتظامی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے مذاکرات اور بریفنگ کی پیشکش سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ احتجاج کے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ادھر لیاقت بلوچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی والدہ کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور بیرسٹر گوہر خان سے تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کے لیے مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔

  8. وزیر آباد میں امیر جماعت اسلامی گرفتار

    جماعت اسلامی کے مطابق ضلعی امیر وزیرآباد چوہدری ناصر محمود کلیر، صابر حسین بٹ، ملک ذبیح اللہ، ارسلان بٹ، نظام آباد یونین کونسل کے امیر فیصل غازی اور جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے امیر ارسلان حیدر بٹ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    جماعت اسلامی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ زونل امیر حافظ فرحان بٹ کے گھر پولیس داخل ہوئی، جبکہ سیٹھ ندیم نور حسین اور ضلعی امیر چوہدری ناصر محمود کلیر کے گھروں میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ جماعت اسلامی نے ان اقدامات کو چادر و چاردیواری کے تقدس کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    پارٹی کے مطابق متعدد مقامی رہنما گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں، جبکہ کارکنوں کو احتجاج کے لیے مولانا ظفر علی خان چوک بائی پاس پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے شام 4 بجے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں :مہنگی گیس ، کچن کا بائیکاٹ ، چوڑیاں نہیں ہتھکڑیاں ، چولہوں پر نہیں چوکوں پر خواتین حق لیں گی ، جماعت اسلامی حلقہ خواتین ساہیوال کا 6 اگست کو مین چوک میں جلسے کا اعلان

    جماعت اسلامی نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ وزیرآباد میں واقع جماعت اسلامی کے مرکز "اسلامک سینٹر” کا پولیس اور پیرا فورس کے اہلکاروں نے گھیراؤ کر رکھا ہے۔

    زونل امیر جماعت اسلامی وزیرآباد حافظ فرحان منیر بٹ نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس حکومت پنجاب کی ذاتی فورس کا کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آمریت کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔پولیس کی جانب سے ان دعوؤں اور الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

مزید خبریں