احتجاجی مظاہرے کی قیادت جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ، سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم، نصراللہ رندھاوا اور زبیر صفدر کر رہے ہیں۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے ساتھ لوگ شریک ہوئے، جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے موٹروے بھی بند کر دی۔
دھرنے کے دوران پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکن آمنے سامنے آگئے۔ پولیس کی جانب سے کارکنوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی، جس پر لیاقت بلوچ نے پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پرامن لوگوں کو تشدد کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے ایسے رویے کی وجہ سے عوام میں فورسز کے خلاف نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ ان کے بقول عوام اپنا حق مانگ رہے ہیں اور انہیں احتجاج کا حق حاصل ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں غربت ناقابل برداشت ہو چکی ہے، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے عوام بھی احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکمران بات چیت کے لیے تیار نہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج حافظ نعیم الرحمن کی کال پر قوم نے لبیک کہا ہے اور ملک بھر میں 510 مقامات پر اسی طرح کے دھرنے جاری ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام سے پٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمت وصول کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران ہی "بھتہ خوری" کریں گے تو معیشت کیسے چل سکتی ہے۔
لیاقت بلوچ نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ملک کی فکر کریں اور ملکی حالات کو سمجھیں۔"
انہوں نے موجودہ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "فارم 47 پر کھڑی حکومت کی کوئی ساکھ نہیں۔"
دوسری جانب جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام پر ایک ظالم طبقہ مسلط ہے اور ظلم کے اس نظام کا خاتمہ ہوگا۔
لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ملک میں کل گڈز ٹرانسپورٹ نے ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے، جو ان کے بقول عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کو تباہ کرنے والے خود بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام ڈوب رہا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔











