میتھو مکھرجی نے اپنے طویل فنی سفر کے دوران بالخصوص بنگالی فلم انڈسٹری میں نمایاں مقام بنایا۔ وہ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں بنگالی سنیما کا معروف چہرہ رہیں اور متعدد مقبول فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

رپورٹس کے مطابق اداکارہ نے اتوار کی شب ممبئی کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی، جہاں گزشتہ تقریباً ایک سال سے ان کا کینسر کا علاج جاری تھا۔

میتھو مکھرجی نے 1972 میں چٹا بوس کی بنگالی فلم ’شیش پربا‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں دینن گپتا کی فلم ’مرجینا عبداللہ‘ میں مرکزی کردار ادا کرکے انہیں وسیع پیمانے پر شہرت ملی۔

انہوں نے بنگالی سنیما کے معروف اداکاروں اتم کمار، سومیترا چٹوپادھیائے اور رنجیت ملک کے ساتھ بھی مختلف فلموں میں کام کیا۔ ان کی مشہور بنگالی فلموں میں ’مرجینا عبداللہ‘، ’نشی کنیا‘، ’موچک‘، ’سویم سدھا‘، ’ہوٹل اسنو فاکس‘، ’بھاگیہ چکر‘ اور ’سندھی‘ شامل ہیں۔

میتھو مکھرجی نے بنگالی سنیما کے علاوہ ہندی فلموں میں بھی اداکاری کی۔ 1976 میں فلم ’خان دوست‘ کے ذریعے انہوں نے ہندی سنیما میں قدم رکھا، جس کے بعد ’سفید جھوٹ‘، ’دل لگی‘ اور ’دو لڑکے دونوں کڑکے‘ سمیت دیگر فلموں میں نظر آئیں۔

رپورٹس کے مطابق انہوں نے 1990 میں فلم ’آشریتا‘ کے ذریعے دوبارہ پردۂ سیمیں پر واپسی کی، جو ان کی آخری فلم ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ زیادہ تر عوامی منظرنامے سے دور رہیں۔

میتھو مکھرجی کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بنگالی فلم انڈسٹری سے وابستہ فنکاروں اور مداحوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔

آل انڈیا سائن ورکرز ایسوسی ایشن نے بھی اداکارہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے فنی سفر اور فلمی خدمات کو یاد کیا۔

بنگالی فلموں کے معروف اداکار پروسین جیت چٹرجی نے بھی سوشل میڈیا پر میتھو مکھرجی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اداکارہ کی یاد اور ان کا کام ہمیشہ لوگوں کے درمیان زندہ رہے گا۔

میتھو مکھرجی کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مداح اور فنکار ان کے فنی سفر، مقبول کرداروں اور بنگالی سنیما میں ان کی خدمات کو یاد کر رہے ہیں۔