نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے دورے میں ان کے ہمراہ ہوں گے۔ اسحاق ڈار پہلے ہی نیویارک پہنچ چکے ہیں اور جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مختلف سفارتی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ ان کے خطاب میں علاقائی اور عالمی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیے جانے کی توقع ہے، جب کہ ڈائیلاگ، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا جائے گا۔

وزیراعظم اپنے خطاب میں خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو اجاگر کریں گے۔

اس کے علاوہ پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اسلاموفوبیا اور عالمی اقتصادی چیلنجز سمیت مختلف عالمی امور پر پاکستان کی ترجیحات بھی پیش کی جائیں گی۔

وزیراعظم مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں طویل عرصے سے جاری تنازعات، قبضے اور حق خودارادیت سے محرومی کے مسائل پر بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائیں گے۔

وزیراعظم جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ترقی، موسمیاتی اقدامات اور دیگر اہم عالمی امور سے متعلق متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔

81ویں جنرل اسمبلی کا عمومی مباحثہ 22 سے 26 ستمبر اور 28 ستمبر کو ہوگا، جب کہ اس سال اجلاس کا موضوع "اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے کام کرے" ہے۔