پولیس کے مطابق مظفرآباد کے علاقے لوئر پلیٹ میں خواجہ فاروق احمد کی رہائش گاہ پر کارروائی کے دوران پی ٹی آئی سے وابستہ 12 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ڈی ایس پی اشتیاق گیلانی نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خواجہ فاروق احمد سمیت دیگر رہنما اور کارکن بھی پولیس کارروائی کی زد میں آئے۔

پی ٹی آئی کے مطابق پولیس کی کارروائی اس وقت کی گئی جب خواجہ فاروق احمد کی رہائش گاہ پر حلقہ تین مظفرآباد کے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کا مشاورتی اجلاس جاری تھا۔

اجلاس میں 27 ستمبر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاریوں پر مشاورت کی جا رہی تھی۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر عتیق کے مطابق خواجہ فاروق احمد سمیت تقریباً 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مشاورتی اجلاس کے دوران پولیس کارروائی اور گرفتاریوں کی مذمت کی۔

پی ٹی آئی کے مطابق خواجہ فاروق احمد نے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں یہ مشاورتی اجلاس طلب کیا تھا۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ کارروائی کے لیے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی کی سربراہی میں تین ایس ایچ اوز سمیت بڑی تعداد میں پولیس اہلکار ان کی رہائش گاہ پہنچے۔

یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک کے مختلف علاقوں میں 27 ستمبر کے پی ٹی آئی احتجاج سے قبل پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: علیمہ خان کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی نظربند، کوٹ لکھپت جیل منتقل

پنجاب کے ساہیوال میں بھی متعدد پی ٹی آئی کارکنوں اور عہدیداروں کو حراست میں لیا گیا ہے، جب کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے ارکانِ پارلیمنٹ بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی وفاقی سطح پر متعلقہ حکام سے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید گرفتاریاں صورتحال کو سنگین بنا سکتی ہیں اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔