خبررساں ادارے انڈپینڈنٹ اُردو کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے درخواست ضمانت پر سماعت کی، جس کے دوران بلال غوری کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کے بنیادی الزامات شواہد سے ثابت نہیں ہوتے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے بلال غوری کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

بلال غوری کو کیوں گرفتار کیا گیا تھا؟

بلال غوری کو 5 ستمبر 2026 کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری سے متعلق مبینہ طور پر ’جھوٹی اور گمراہ کن‘ معلومات پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پیکا ایکٹ کی دفعات 20 اور 26 اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ بلال غوری نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل پر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی سے متعلق غلط معلومات پر مبنی بیانیہ پھیلایا۔

تفتیشی حکام کے مطابق ان کے مواد سے عوام کو گمراہ کرنے، بے چینی پیدا کرنے اور ریاستی اداروں پر اعتماد کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

بعد ازاں عدالت نے انہیں جسمانی ریمانڈ کے بعد 12 ستمبر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

بلال غوری کے وکیل عمران شفیق نے مقدمے کو ’آزادی صحافت پر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ ایسا کوئی جملہ پیش نہیں کرسکا جس کی بنیاد پر پیکا ایکٹ کی متعلقہ دفعات کا اطلاق ہوتا ہو۔

مزید پڑھیں: صحافی بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور: ’عدلیہ تو آزاد ہے لیکن وہاں تو چین آف کمانڈ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بلال غوری نے کسی قومی شخصیت کی ہتک عزت نہیں کی اور نہ ہی پبلک آرڈر کو نقصان پہنچانے کا کوئی ثبوت موجود ہے۔

دوسری جانب مقدمے میں تفتیشی حکام کی جانب سے بلال غوری پر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری سے متعلق مبینہ غلط معلومات پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔