لائیو

حوثیوں کے سعودی تیل تنصیبات پر حملے، پاکستان کا فریقین کو تحمل کا مشورہ؛ ’حملہ آوروں کو عالمِ اسلام کے شدید ردِعمل کا سامنا ہوگا‘

مادھو لعل حسین چانڈیو
حوثیوں کے سعودی تیل تنصیبات پر حملے، پاکستان کا فریقین کو تحمل کا مشورہ؛ ’حملہ آوروں کو عالمِ اسلام کے شدید ردِعمل کا سامنا ہوگا‘16 ستمبر، 2026

یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں تیل اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے دعوؤں اور مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جب کہ پاکستان نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ گروپ نے سعودی شہر ینبع میں آرامکو کی تنصیبات اور خمیس مشیط ایئربیس کو الگ الگ کارروائیوں میں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، یہ حملے یمن میں سعودی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی 'پاکستان میٹرز' آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔

  • دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا ہے کہ سعودی فضائی دفاع نے منگل کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو اس وقت مار گرایا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود کی جانب بڑھ رہا تھا۔

  • سعودی اتحاد نے مکہ مکرمہ اور حرمین شریفین کی سکیورٹی کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا ہے۔ حوثیوں نے مکہ یا دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کارروائیوں کا ہدف سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے ہیں۔

  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ کے قریب مبینہ حوثی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین شریفین کے تقدس کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید کشیدگی سے پیچھے ہٹنے پر زور دیا۔

  • ادھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ پر حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا۔ انہوں نے مسلم ممالک، خصوصاً پاکستان، پر زور دیا کہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ میں صفِ اول کا کردار ادا کریں۔

تازہ اپڈیٹس

  1. حوثیوں کا سعودی عرب میں آرامکو اور خمیس مشیط ایئربیس پر حملوں کا دعویٰ

    یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات اور خمیس مشیط ایئربیس کو نشانہ بنانے کے لیے دو الگ فوجی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    حوثیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے بدھ کو صنعا سے جاری بیان میں کہا کہ پہلی کارروائی میں مغربی سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جب کہ دوسری کارروائی میں جنوب مغربی سعودی عرب میں واقع خمیس مشیط ایئربیس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

    یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ دونوں کارروائیوں میں اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

    حوثی ترجمان کے مطابق یہ حملے یمن میں سعودی قیادت میں جاری فوجی کارروائیوں اور محاصرے کے جواب میں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے یمن پر سعودی فضائی حملوں کی تعداد 450 سے تجاوز کرچکی ہے۔

    یحییٰ سریع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حوثیوں نے یمن کے صوبہ مأرب کے اوپر سعودی فضائیہ کا ایف 15 جنگی طیارہ مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے مار گرایا۔

    انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ طیارے کے مبینہ ملبے کی تلاش میں آنے والے سعودی ایف 15 اور ٹائفون طیاروں کے دو فارمیشنز کو بھی انہی میزائلوں کے ذریعے پسپا کیا گیا۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کے دعوے کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

    حوثی ترجمان نے سعودی عرب کی جانب سے مکہ مکرمہ کے قریب حوثی ڈرون مار گرائے جانے کے دعوے کی بھی تردید کی۔ حوثیوں کی کارروائیوں کا ہدف سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے ہیں اور مقدس مقامات کو کوئی خطرہ نہیں۔

    یہ بیان سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی فضائی دفاع نے منگل کو حوثیوں کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے مار گرایا۔

    سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق یہ مکہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی جانب سے دوسری مبینہ کوشش تھی۔ اس سے قبل اتحاد نے جولائی 2017 میں بھی مکہ کی جانب بیلسٹک میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔

مزید خبریں