بلال غوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں این سی سی آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے ان کے یوٹیوب اور ایکس اکاؤنٹس کی ریکوری کرنی ہے۔

عدالت میں وکیل حنظلہ حبیب نے کہا کہ بلال غوری نے 5 ستمبر کو وی لاگ اپ لوڈ کیا، تاہم انہیں کوئی نوٹس دیے بغیر گرفتار کرلیا گیا۔ بلال غوری کے وکیل عمران شفیق کا کہنا تھا کہ وی لاگ میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو غلط ہو، این سی سی آئی اے بتائے کہ جھوٹی معلومات کہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف یہ بات بری لگی کہ ان کی مزید ترقی ممکن نظر نہیں آتی‘، تو یہ کون سا جھوٹ ہے؟

عدالت میں بلال غوری سے بھی سوالات کیے گئے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے استفسار کیا کہ کیا ایسے الفاظ مناسب ہیں؟ جس پر بلال غوری نے کہا کہ وہ فیصل نصیر کے خلاف نہیں بلکہ نیکٹا کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

جج نے مزید پوچھا کہ ’آخر میں کیا کہا ہے آپ نے؟‘ بلال غوری نے جواب دیا کہ ’میں نے یہی کہا کہ جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہ وہی کریں گے۔‘ جج نے ریمارکس دیے کہ ’کیا آپ کل میرے حوالے سے بھی یہ کہیں گے کہ جو سیشن جج کہے گا وہ کریں گے؟‘ بلال غوری نے جواب دیا کہ ’عدلیہ تو آزاد ہے لیکن وہاں تو چین آف کمانڈ ہے۔‘

گرفتاری سے قبل لاپتہ ہونے کی اطلاع

بلال غوری کی اہلیہ حمیرا کنول نے اتوار کی صبح ایکس پر جاری پیغام میں بتایا تھا کہ ان کے شوہر گزشتہ رات تقریباً 2 بجے سے لاپتہ ہیں اور انہوں نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جلد از جلد حرکت میں آئیں تاکہ ان کا سراغ لگایا جاسکے اور وہ بحفاظت گھر واپس آسکیں۔

ان کے مطابق بلال غوری اسلام آباد کے سیکٹر ای 11 میں واقع اپنے گھر کی نچلی منزل پر ہفتہ وار کالم لکھنے اور وی لاگ شوٹ کرنے کے لیے موجود تھے، تاہم رات گئے تک اوپر نہ آنے پر انہیں تشویش ہوئی۔ نیچے جاکر دیکھا تو بلال غوری گھر میں موجود نہیں تھے۔

اہلیہ نے بتایا کہ بلال غوری کی گزشتہ چند روز سے طبیعت بھی ناساز تھی، اس لیے ان کا اچانک لاپتہ ہونا انتہائی پریشان کن تھا۔

ان کے بھائی عبدلواسع کے مطابق انہوں نے بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی اطلاع پولیس ہیلپ لائن 15 پر دی اور اتوار کی صبح تھانہ شالیمار میں تحریری درخواست بھی جمع کرائی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں کی اور تحقیقات بھی شروع نہیں کیں۔

بلال غوری کے اہل خانہ نے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم کی، جس میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ان کے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک پولیس وین اور دو دیگر گاڑیوں کو رکتے دیکھا جاسکتا ہے۔ فوٹیج میں سادہ لباس میں ملبوس بعض اہلکار گھر کی جانب جاتے اور بعد ازاں ایک شخص کو مبینہ طور پر زبردستی پولیس وین میں بٹھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ فوٹیج میں نظر آنے والا شخص بلال غوری تھے۔

تاہم تھانہ شالیمار کے سب انسپکٹر نعمان شفیق نے بتایا کہ پولیس کو بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست موصول ہوئی تھی، جس کے بعد ابتدائی تحقیقات شروع کردی گئی تھیں۔

بلال غوری کے خلاف مقدمہ

بعد ازاں اتوار کی شب این سی سی آئی اے نے تصدیق کی کہ بلال غوری کو پیکا ترمیمی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے نے 6 ستمبر کو بلال غوری کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ کی دفعات 20 اور 26 اے کے تحت مقدمہ درج کیا۔

ایف آئی آر کے مطابق بلال غوری نے 5 ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی سے متعلق ’غلط بیانیہ‘ گھڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ملزم نے حقائق کے برعکس اور تصدیق کیے بغیر غلط معلومات کی تشہیر کی، جس سے عوام میں بے چینی پیدا کرنے اور ریاستی اداروں پر اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد میجر جنرل فیصل نصیر کو نیکٹا کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ وزارت داخلہ کے تحت 2008 میں قائم ہونے والے اس ادارے کے پہلے فوجی سربراہ ہیں۔ میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے انٹرنل ونگ، جسے ڈی جی سی کہا جاتا ہے، کے سربراہ رہ چکے ہیں۔