ترک حکام کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت طغرل بار کے نام سے ہوئی ہے، جسے 2018 میں چوری اور سرکاری اہلکاروں کا روپ دھارنے سے متعلق 3 مقدمات میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا کے بعد وہ حکام کے سامنے پیش ہونے کے بجائے روپوش ہوگیا اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے حلیہ تبدیل کر لیا۔

فرار ہونے کے بعد طغرل بار نے اپنی ظاہری شکل میں نمایاں تبدیلیاں کیں۔ نئے حلیے میں اس کی شکل و صورت اتنی تبدیل ہوگئی تھی کہ پولیس کے پاس موجود پرانی تصاویر کی مدد سے اسے شناخت کرنا مشکل ہوگیا۔

روایتی طریقے سے تلاش میں مسلسل ناکامی کے بعد تفتیش کاروں نے حکمت عملی تبدیل کی اور اس کی ظاہری شکل کے بجائے روزمرہ زندگی، نقل و حرکت اور مالی سرگرمیوں کے سراغ پر توجہ مرکوز کی۔

رپورٹس کے مطابق طغرل بار نے روپوشی کے دوران خاتون کا روپ اختیار کیا اور استنبول میں سفر کرتے ہوئے اپنی بہن کا سرکاری شناختی کارڈ استعمال کرتا رہا۔ تلاشی کے دوران وہ اسی شناختی دستاویز کو اپنی شناخت کے طور پر پیش کرتا تھا، جس کے باعث کئی برس تک پولیس کو اس کی اصل شناخت کا علم نہ ہوسکا۔

اس کی گرفتاری کی راہ اس وقت ہموار ہوئی جب پولیس نے اس کی بہن کے کریڈٹ کارڈ سے ہونے والی بعض خریداریوں کا سراغ لگایا۔ تفتیش کاروں کے لیے یہ بات مشکوک تھی کہ کارڈ استعمال کرنے والی خاتون اس وقت ملک سے باہر موجود تھی۔

پولیس نے ان مالی لین دین کی مزید جانچ کی اور مشتبہ سرگرمیوں کا سراغ لگاتے ہوئے بالآخر طغرل بار تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔

حکام نے مشتبہ شخص کے انگلیوں کے نشانات حاصل کیے اور انہیں ریکارڈ سے ملایا۔ موازنے کے بعد تصدیق ہوگئی کہ گرفتار ہونے والا شخص 2018 سے مطلوب طغرل بار ہی ہے۔

گرفتاری کے بعد طغرل بار کو قاضی کوئے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا، جہاں اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

حکام نے اس کی بہن کی شناخت اور سرکاری دستاویزات کے مبینہ استعمال کے معاملے کی بھی الگ تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کے مطابق اگر اس حوالے سے اضافی الزامات ثابت ہوتے ہیں تو طغرل بار کو مزید قانونی کارروائی اور سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔