صومالیہ میں قید پاکستانی یرغمالیوں کی نئی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کے اعلیٰ حکام سے اپنی رہائی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایک سو نو دن گزرنے کے باوجود پاکستانی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر مدد نہیں پہنچ سکی اور نہ ہی قزاقوں سے مذاکرات شروع کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ صومالیہ کے سمندر میں یرغمال بنائے گئے تجارتی آئل ٹینکر ’اونر 25‘ کو 21 اپریل 2026 کو صومالی بحری قزاقوں نے ہائی جیک کیا تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 12 افراد سوار تھے، جن میں 11 پاکستانی شہری اور ایک انڈونیشی کپتان شامل تھا۔
پاکستانی یرغمالیوں کی نئی ویڈیو نے ان کے اہل خانہ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یرغمالیوں میں سے کئی افراد کی طبیعت بیماری کے باعث انتہائی خراب ہو گئی ہے، جب کہ بحری جہاز پر حالات بھی بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔
یرغمالیوں نے اپنی رہائی کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے درد مندانہ اپیل کی ہے۔
دوسری جانب 18 مئی 2026 کو صومالی بحری قزاقوں نے پاکستانی شہریوں اور ہائی جیک کیے گئے بحری جہاز کی رہائی کے بدلے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
قزاقوں نے پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے معروف انسانی حقوق کے رہنما اور انصار برنی ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی سے براہِ راست رابطہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق قزاقوں کے سرغنہ نے ایک تحریری پیغام کے ذریعے اپنے مطالبات انصار برنی تک پہنچائے۔
انصار برنی ٹرسٹ کے ذرائع کے مطابق قزاقوں نے اغوا کیے گئے پاکستانی شہریوں اور بحری جہاز کی رہائی کے بدلے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کیا۔
ٹرسٹ حکام کا کہنا تھا کہ قزاقوں کے پیغام اور مطالبات سے یرغمال پاکستانیوں کے اہل خانہ کو فوری طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا تاکہ وہ صورتحال سے باخبر رہ سکیں۔
انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق قزاقوں کا پیغام اور مطالبات معاملے کی نگرانی کرنے والے حکومتی عہدیداروں اور متعلقہ اعلیٰ حکام تک بھی پہنچائے جا رہے ہیں، تاکہ پاکستانی شہریوں کی باحفاظت وطن واپسی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوشاں انصار برنی ٹرسٹ اور عملے کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کوئی ناخوشگوار خبر سامنے آنے سے پہلے پاکستانی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لایا جائے۔







