میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا اور رابطے آج بھی برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو حالات کیسے بہتر ہوں گے، ریاست سنجیدہ ہے تو اسے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خاندان اور کارکنوں سے متعلق کیے جانے والے اقدامات پر تحفظات ہیں، ریاست کو اپنے اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب مطالبات پر بات نہیں کی جارہی تو احتجاج روکنے کا مطالبہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی اسلام آباد جائے گی تو پاکستان کے جھنڈے اور بانی پی ٹی آئی کے نعرے ہوں گے، تاہم پارٹی قانون ہاتھ میں نہیں لے گی۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد آنے کے لیے چار مختلف منصوبے بنائے گئے ہیں اور کارکن آٹھ مختلف مقامات سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔

مزید پڑھیں: حکومت کے پاس آخری موقع، احتجاجی تحریک جاری، اسلام آباد مارچ سے دستبردار نہیں ہوں گے، حافظ نعیم الرحمان

شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ میں 20 لاکھ کارکن شریک ہوں گے اور انہیں اسلام آباد پہنچنے میں 7 سے 8 دن لگیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان سے ملاقات ہوجائے اور وہ لانگ مارچ روکنے کی ہدایت کریں تو مارچ روکا جاسکتا ہے۔