ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق نیویارک میں امریکی فریق سے رابطہ قطری ثالثی کے ذریعے ہوا، جس کے دوران تہران نے اپنا مؤقف اور جنگ کے خاتمے سے متعلق شرائط امریکی حکام تک پہنچائیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کی بنیادی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور امریکا کی جانب سے فوجی کارروائیوں کا مکمل روکنا شامل ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی دباؤ میں کمی اور فوجی سرگرمیوں کے خاتمے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق تہران نے بحری ناکہ بندی ختم کرنے، معاشی جنگ روکنے اور ایرانی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ بھی امریکا کے سامنے رکھا ہے۔ ایران نے بالخصوص آبنائے ہرمز سے متعلق پابندیوں اور امریکی بحری دباؤ کو مذاکرات میں اہم معاملہ قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی، جبکہ امریکی وفد میں جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے اسے تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت قرار دیا اور کہا کہ مزید رابطے بھی جلد متوقع ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق عباس عراقچی نے امریکی نمائندے کے ساتھ رابطے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تہران کی شرائط بھی پیش کیں۔ ان شرائط میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنا اور تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنا شامل بتایا گیا ہے۔
اس سے قبل ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بھی کہا تھا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائے جانے کی بھی اطلاع سامنے آئی تھی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران ایرانی وفد اجلاس سے واک آؤٹ کر گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں مختلف ممالک کے نمائندوں سے متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی وفد نے امریکا سے کسی خصوصی حفاظتی اقدامات کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی وفد کی نیویارک میں موجودگی ایسے وقت میں ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری تنازع کے باوجود سفارتی رابطوں کے امکانات دوبارہ سامنے آئے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ عباس عراقچی نے نیویارک میں اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی ہے، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے جیرڈ کشنر کے بھی بات چیت میں شریک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعد ازاں امریکی صدر نے امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تین گھنٹے کی ملاقات کی تصدیق کردی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے مزید بات چیت جاری رہنے کی توقع ہے، تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے، بحری ناکہ بندی اٹھانے اور اثاثوں کی واپسی کو اہم شرائط قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے اپنے مطالبات اور مؤقف برقرار رکھنے کی اطلاعات ہیں۔
نیویارک میں ہونے والے یہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی اہم عالمی موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ تاہم تازہ رابطوں کے باوجود کسی حتمی معاہدے یا جنگ کے مکمل خاتمے کا اعلان نہیں کیا گیا۔







