امریکی صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان کا نام لیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے تعریفی الفاظ استعمال کیے، ٹرمپ نے شہباز شریف کو ’فنٹاسٹک وزیراعظم‘ قرار دیا، جسے پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ان کے خطاب کا نمایاں حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کا بھی ذکر کیا۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر پاک بھارت جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا۔
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید فوجی کشیدگی ہوئی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی۔ ٹرمپ اس کے بعد متعدد مواقع پر اس جنگ بندی میں امریکی کردار کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں اپنے تازہ خطاب میں بھی پاکستان اور بھارت کے تنازع کو اپنی خارجہ پالیسی کے تناظر میں پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل بھی پاک بھارت کشیدگی کے معاملے پر سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کے حوالے سے مختلف عالمی رہنماؤں کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی جانب سے پاک بھارت تعلقات اور خطے کی صورتحال کا حوالہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک میں عالمی رہنماؤں کے درمیان علاقائی سلامتی، جنگوں اور سفارتی حل کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔
امریکی صدر کے خطاب میں پاکستان کے حوالے سے مختصر مگر نمایاں تبصرے نے بھی توجہ حاصل کی۔ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے ’فنٹاسٹک وزیراعظم‘ کے الفاظ استعمال کیے جانے کو دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی رابطوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم یہ بیان بذاتِ خود کسی نئے معاہدے یا پالیسی اعلان کی نشاندہی نہیں کرتا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان گزشتہ عرصے کے دوران مختلف علاقائی معاملات پر رابطے رہے ہیں۔ خاص طور پر ایران، افغانستان اور پاک بھارت کشیدگی سمیت خطے کی صورتحال امریکا اور پاکستان کے سفارتی روابط میں اہم موضوعات رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں عالمی تنازعات کے حوالے سے اپنی انتظامیہ کی سفارتی کوششوں اور امریکی کردار کو اجاگر کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں امریکی خارجہ پالیسی، ایران، عالمی سلامتی اور دیگر بین الاقوامی معاملات پر اپنا مؤقف پیش کیا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے بھی متعدد مواقع پر مثبت الفاظ استعمال کرچکے ہیں۔ پاکستانی قیادت کے ساتھ امریکی صدر کے حالیہ روابط میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے میں امن و سلامتی اور مختلف تنازعات کے سفارتی حل کے امور بھی زیر بحث آتے رہے ہیں۔
نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی بھی مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے علاقائی امن، عالمی سلامتی، مسئلہ کشمیر، فلسطین اور معاشی تعاون سمیت مختلف امور پر اپنا مؤقف عالمی فورم پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو ’فنٹاسٹک وزیراعظم‘ قرار دینا اور مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دینا جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان سے متعلق امریکی صدر کے خطاب کا اہم حصہ رہا۔







