امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے کہا کہ ثالث منگل کے روز امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان پیغامات لے کر آتے جاتے رہے۔

اسٹیو وٹکاف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی وفد کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے طویل مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ثالثوں نے پورا دن رابطہ برقرار رکھا اور مذاکرات کا ایک دور مکمل کیا گیا، جس کے نتائج تعمیری اور امید افزا ثابت ہونے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق ثالث آئندہ بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ٹرمپ کا براہِ راست ملاقات کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی مختلف تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام کے ساتھ تین گھنٹے تک ملاقات کی۔

ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات بہت اچھی اور انتہائی نتیجہ خیز رہی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کسی معاہدے کی جانب کافی پیش رفت ہو رہی ہے۔ بعد میں ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور انہیں یقین ہے کہ بالآخر کوئی سمجھوتا طے پا جائے گا۔

واشنگٹن سے الجزیرہ کی نمائندہ کمبرلی ہالکٹ کے مطابق ٹرمپ کے ابتدائی بیان سے یہ ابہام پیدا ہوا کہ مذاکرات میں کون کون شریک تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے بعد میں وضاحت کی کہ ٹرمپ خود مذاکرات میں شریک نہیں تھے جبکہ امریکی وفد کی نمائندگی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے کی۔

ایرانی وزیر خارجہ اور وٹکاف کی ملاقات

تہران سے الجزیرہ کے نمائندے توحید اسدی کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسٹیو وٹکاف کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

یہ ملاقات کئی ہفتوں سے جاری براہِ راست رابطے کے فقدان کے بعد ہوئی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ملاقات امریکی فریق کی درخواست اور اصرار پر ہوئی اور اس کا مقصد ایران کے پیغامات اور شرائط امریکا تک پہنچانا تھا، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی شرائط میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنا اور ان علاقوں میں جنگ ختم کرنا شامل ہے جنہیں تہران ’مزاحمتی محاذ‘ قرار دیتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایک ایرانی سکیورٹی ذریعے نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن ایران کی شرائط اور وعدوں پر عمل کرتا ہے تو مزید سفارتی رابطوں کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔

ایران نے مذاکرات کو ’سنہری موقع‘ قرار دیا

یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ نیویارک میں موجود ایرانی وفد کو سفارت کاری آگے بڑھانے کے لیے مکمل اختیار حاصل ہے۔

ایرانی عہدیدار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کو واشنگٹن کے لیے مذاکرات کی طرف واپسی کا ’سنہری موقع‘ قرار دیا۔

ان کے مطابق ایران نے 16 ستمبر کو ثالثوں کے ذریعے امریکا کو اپنی تازہ ترین تجویز پیش کی تھی اور نیویارک میں ممکنہ معاہدے کے ذریعے جنگ بندی کے معاملات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے۔

خلیجی ممالک کی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں

امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے ساتھ خلیجی اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے بھی کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

قطر نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت برقرار رکھنے اور خطے میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔

قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی نے بھی منگل کو نیویارک میں عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

قطری وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں خطے کی صورتحال، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آبنائے ہرمز پر سفارتی سرگرمیاں

عمان بھی آبنائے ہرمز کے معاملے پر سفارتی کوششوں میں شامل ہے۔ عمان اس سے قبل تہران کے ساتھ سمندری انتظامات پر بات چیت کر چکا ہے، جن کا مقصد آبنائے سے بحری آمدورفت کو آسان بنانا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک، ترکی، اردن، شام اور عراق کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کی۔

ملاقات میں ایران اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر بات ہوئی۔

روئٹرز کے مطابق ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ سکیورٹی نظام سے متعلق قطری تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ ایک علاقائی ذریعے نے بتایا کہ تہران اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

قطر نے تاحال اس تجویز کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔

ٹرمپ کا فوجی کارروائی کا انتباہ

بالواسطہ مذاکرات سے چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں معاہدے کے امکان کے ساتھ فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دہرائی۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایک ’بڑے فیصلے‘ کا سامنا ہے کہ آیا ایسا معاہدہ کیا جائے جس کے ذریعے ایران اپنی تعمیرِ نو کر سکے یا پھر ’اسلامی جمہوریہ کو نیست و نابود‘ کرنے کی طرف جایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اس سے قبل ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور امریکا کے مطابق دہشت گردی کے لیے ایرانی حمایت ختم کرنے کے بدلے ’مکمل اقتصادی تعاون‘ کی پیشکش کر چکا ہے۔

ایران کا امریکی دھمکیوں پر ردعمل

ایرانی جنرل اسٹاف آف آرمڈ فورسز اور خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے ایرانی میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ کی دھمکیوں کو ’تزویراتی کمزوری‘ قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ مزید حملوں کی صورت میں ایران ’زیادہ شدید، تباہ کن اور غیر متوقع حملوں‘ کے لیے تیار ہے۔

مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے

امریکی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ جون میں مفاہمت کی یادداشت ختم ہونے کے بعد مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

اگست کے آغاز میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ فریقین ممکنہ معاہدے کے لیے بنیادی نکات پر متفق ہو چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کو ’اچھی طرح آگے بڑھنے‘ والا قرار دیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جنگ ’اختتام کی جانب‘ بڑھ رہی ہے۔

تہران اب بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو امریکی فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرنے سے مشروط کر رہا ہے۔

دوسری جانب اسٹیو وٹکاف کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والے ثالثی مذاکرات کے بعد ثالث اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔