وزیراعظم نے اپنے پیغام میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی، دیرینہ اور آزمودہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں، سعودی عرب کی ترقی، خوشحالی اور استحکام پاکستان کے لیے بھی باعثِ مسرت اور فخر ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات محض دوطرفہ روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک امن، سلامتی، امت مسلمہ کے اتحاد اور خطے میں استحکام جیسے مشترکہ مقاصد کے لیے بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

وزیراعظم نے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی قیادت میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں آنے والی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دیرینہ دوستی اب مزید جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی، دفاعی اور اقتصادی روابط خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حوثی حملوں کی بھی سخت مذمت کی، خصوصاً مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کو سعودی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حرمین شریفین کی حرمت، تقدس اور سلامتی کو کسی بھی قسم کا خطرہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات صرف مملکت تک محدود نہیں بلکہ ان کے اثرات خطے کے امن، عالمی توانائی کی فراہمی اور بحری تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان نے ایسے حالات میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کا مؤقف بھی برقرار رکھا ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان رواں برس طے پانے والے مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی حوالہ دیا۔ یہ معاہدہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا اور اس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔ معاہدے کے تحت دفاعی تعاون، تربیت، استعداد کار میں اضافے، دفاعی ٹیکنالوجی اور باہمی تجربات سے استفادہ کرنے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے سعودی عرب میں ایک سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا، جس کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والا سیکریٹری جنرل کرے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات مستقبل میں بھی مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے سعودی عرب کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔