جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ 34 روز سے جاری 42 دھرنوں کو تحریک کی شکل میں بدل دیا جائے۔ آج سے کارکن گلی، محلوں تک پھیل جائیں گے۔
اسلام آباد مارچ 20 ستمبر کو شروع ہوگا جسے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کا نام دیا گیا ہے۔ کراچی، بلوچستان، چترال، کالام اور پنجاب کے تمام اضلاع سے قافلے روانہ ہو کر اسلام آباد پہنچیں گے۔
اس سے قبل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ میں کسی ایک جگہ سے لوگ نہیں نکلیں گے، لانگ مارچ کا آغاز کراچی، کوئٹہ، چترال، کالام اور پورے پنجاب سے ہو گا۔
کراچی سے ٹرین مارچ لے کر نکلیں گے، ہمارا سپر مارچ ہو گا،ملتان سے ہوتا ہوا ہمارا لانگ مارچ لاہور پہنچے گا پھر آگے بڑھیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 20 ستمبر کو ’تاریخی سپر لانگ مارچ‘ ہوگا۔
یہ ایک ’سپر لانگ مارچ‘ ہوگا اور حکومت کے کنٹینر عوام کا راستہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ حافظ نعیم الرحمان
لاہور میں جماعت اسلامی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب اسلام آباد کے لیے نکلیں گے تو ہر صورت وہاں پہنچیں گے، جب کہ کراچی سے گوادر، خیبر پختونخوا، سندھ اور شمالی پنجاب سمیت مختلف علاقوں سے لوگ لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’سپر لانگ مارچ‘ ہوگا اور حکومت کے کنٹینر عوام کا راستہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ اگر شہباز شریف اور وزرا نے ’ڈھٹائی‘ کا مظاہرہ جاری رکھا تو جماعت اسلامی چاروں اطراف سے اسلام آباد پہنچے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی جانب سے عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے مؤقف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت ہر روز عوام پر ’پیٹرول بم‘ گرا رہی ہے۔ اس وقت پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت تقریباً 260 روپے بنتی ہے، جب کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے اضافی رقم وصول کر رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ انڈیا نے بحرانوں کے باوجود پیٹرول کی قیمت میں 30 روپے سے زیادہ اضافہ نہیں کیا، جب کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر اس سے کہیں زیادہ اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے ’بھتہ ٹیکس‘ قرار دیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ لیوی کے ذریعے ہی خزانہ چلتا ہے، تاہم جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومتی اخراجات میں کمی اور دیگر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران طبقہ عوام کی جیب پر بوجھ ڈال رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی حکومت کے ساتھ چار ادوار کرچکی ہے، تاہم انہیں افسوس ہے کہ واضح دلائل کے باوجود حکومت بار بار آئی ایم ایف کا حوالہ دیتی ہے۔
ان کے بقول جماعت اسلامی نے مذاکرات میں حکومت کو اپنی تجاویز پیش کیں اور اب حکومت کے پاس ان کا کوئی مؤثر جواب نہیں، مذاکرات میں جماعت اسلامی نے حکومت کو ’شکست‘ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کو 33 دن مکمل ہوچکے ہیں اور اس دوران کارکنوں نے عوام میں شعور پیدا کیا ہے۔ دھرنوں میں خواتین اور بچوں سمیت عوام کی شرکت بڑھ رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لندن سفر اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ مریم نواز کے لندن سفر پر بھاری اخراجات ہوئے اور کہا کہ انہیں اپنے سفر کے اخراجات اور اثاثوں سے متعلق تفصیلات عوام کے سامنے لانی چاہئیں۔
انہوں نے مریم نواز کی تعلیمی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں نویں جماعت کے امتحانات میں بڑی تعداد میں طلبہ ناکام ہوئے جب کہ صوبے میں ہزاروں اسکولوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں ہیلتھ ورکرز، ڈاکٹرز اور اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں، حکومت کو بنیادی مسائل کے بجائے ’ایونٹ بازی‘ سے گریز کرنا چاہیے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے اپنی جماعت کی سابقہ احتجاجی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل عوام آئی پی پیز کے معاہدوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کے بعد حکومت نے آئی پی پیز سے متعلق معلومات طلب کیے جانے پر ٹال مٹول سے کام لیا، جب کہ جماعت اسلامی نے اپنی فہرستیں حکومت کو فراہم کیں اور بتایا کہ ان میں حکومتی ملکیت یا وابستگی رکھنے والے آئی پی پیز کون سے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں ایک معاہدہ ہوا اور عوام کے بجلی کے بلوں میں 30 فیصد تک کمی آئی۔ اب پیٹرولیم لیوی، آئی پی پیز، ریفائنریز اور آٹا مافیا سمیت مختلف مسائل پر جدوجہد جاری ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی 20 ستمبر سے اپنی تحریک کو مزید وسعت دے گی اور پوری قوم کو اس کے ساتھ کھڑا کرنے کی کوشش کرے گی۔ دھرنوں سے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے اور حکومت کے ردعمل سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ احتجاج دباؤ پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ ان کی جماعت ذاتی یا جماعتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ ہم حکومت سے خیرات نہیں، عوام کا حق مانگ رہے ہیں، ہمیں ریلیف کی خیرات نہیں چاہیے، عوام کا حق چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 20 ستمبر کو ’تاریخی سپر لانگ مارچ‘ ہوگا اور ملک کے مختلف حصوں سے قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔







