اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت خود اعتراف کرتی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے دباؤ میں فیصلے کر رہی ہے اور بار بار بتایا جاتا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے، جبکہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کو آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا لیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جس مقصد کے لیے لیوی وصول کی جاتی ہے، اس پر رقم خرچ نہیں کی جاتی۔

امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ بجٹ میں کیپسٹی پیمنٹس کم کرنے کے لیے کیا اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

انہوں نے حکومت کو  نااہلی کا شاہکار  قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 79 برس سے ایک ہی طبقہ حکمرانی کر رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ملک پر 85 ہزار ارب روپے سے زائد قرضہ چڑھ چکا ہے اور آئندہ مالی سال میں قرضوں کے سود کی ادائیگی پر 800 ارب روپے سے زیادہ خرچ کیے جائیں گے، جس کا بوجھ بالآخر غریب عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ زرعی مداخل مہنگی ہو چکی ہیں اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پیٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے اور سرکاری سطح پر اخراجات میں کمی لانے کے لیے صرف 1300 سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کی جائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے ایف بی آر میں سالانہ 1200 سے 1300 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز سمیت تمام ریاستی اداروں کو اپنی مراعات میں کمی لانے کی مثال قائم کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دفاع کے لیے ضروری اخراجات پر عوام قربانی دینے کو تیار ہیں، تاہم غیر ضروری مراعات ختم کی جانی چاہئیں۔ موجودہ نظام عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے 26ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں 31 دسمبر 2026 تک سودی نظام کے خاتمے کا ذکر کیا گیا ہے، لہٰذا حکومت کو اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔