ڈان نیوز کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے تھانہ صادق آباد میں درج 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران علیمہ خان عدالت کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے باوجود پیش نہیں ہوئیں۔

عدالت نے اُن کے ضامن کی جائیداد بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی نادرا اور ڈی جی پاسپورٹ کو ہدایت کی کہ علیمہ خان کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا جائے۔

عدالت نے گورنر اسٹیٹ بینک کو بھی علیمہ خان کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزمہ مختلف مواقع پر نظر آتی ہیں مگر عدالت میں پیش نہیں ہوتیں، اُن کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ سماعت پیر، 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

دو روز قبل عدالت نے 22 اکتوبر کے لیے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ اس دوران ایس پی راول ڈویژن سعد ارشد اور ڈی ایس پی نعیم کو جعلی رپورٹ جمع کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ علیمہ خان ’چھپ گئی ہیں‘، جبکہ وہ اڈیالہ جیل اور سوشل میڈیا پر دیکھی جا چکی ہیں۔

عدالت نے ان کے ضامن کے مچلکے ضبط کر لیے تھے اور 10 لاکھ روپے کے نئے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ کیس میں شامل چار گاڑیوں کے ضامنوں کے مچلکے بھی ضبط کر لیے گئے تھے۔

اس سے قبل 20 اور 14 اکتوبر کو بھی علیمہ خان کی مسلسل غیر حاضری پر ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ یہ کیس 24 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی کے احتجاج اور اسلام آباد میں ہونے والی جھڑپوں سے متعلق ہے، جب پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پشاور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں جھڑپوں کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین زخمی ہوئے، اور مختلف تھانوں میں عمران خان، بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔