یہ درخواست جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت امتیاز اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ یہ وہی چار ججز ہیں جو گزشتہ برس مارچ میں اعلیٰ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھنے والے چھ ججز میں شامل تھے۔

25 مارچ 2024 کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے اس خط میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے عدالتی امور میں مبینہ دباؤ، براہ راست مداخلت اور ججز کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس خط نے عدلیہ، حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان شدید بحث کو جنم دیا تھا۔

27ویں ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ، نے ترمیم کو “آئین پاکستان پر سنگین حملہ” قرار دیتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دونوں ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان کو اپنے خطوط میں اس ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے عدلیہ کی آزادی کو خطرہ لاحق ہوگا۔

جسٹس منصور علی شاہ، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں۔ اپنے استعفے میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو “آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب” ہے۔

ججز کے اعتراضات اور استعفوں پر حکومت نے سخت ردِعمل دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ ججز “سیاسی اور ذاتی ایجنڈا” پر کام کر رہے تھے اور انہیں سیاسی معاملات یا پارلیمان کی کارکردگی پر تنقید کا کوئی استحقاق حاصل نہیں۔