سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی سے استثنیٰ سے متعلق شق واپس لے لی گئی، کیونکہ وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ وہ عوام اور قانون دونوں کے سامنے جوابدہ ہیں۔ انہوں نے اسے وزیراعظم کا ایک ’’احسن اور جمہوری اقدام‘‘ قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام ترامیم کا مقصد گڈ گورننس کو فروغ دینا، وفاق اور صوبوں کے درمیان رشتے کو مزید مضبوط بنانا اور ملک کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری 27ویں آئینی ترمیم پاکستان کو دفاعی طور پر مزید مضبوط کرنے اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے ایک مثبت اقدام ہے، ہمارے ووٹ پورے ہیں اور کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں۔
27 ویں ترمیم کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی ڈیڈلاک نہیں ہے، وزیر اعظم کا استثنی نہ لینے کا فیصلہ احسن قدم تھا، وزیر اعظم کی ہدایت پر یہ شق کمیٹی سے واپس لے لی گئی ہے، وزیر اعظم نے سمجھا کہ وہ عوام کی عدالت میں جواب دہ ہیں: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ pic.twitter.com/GmemscFqQx
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) November 10, 2025
عطا تارڑ نے کہا کہ دنیا بھر میں سربراہِ ریاست کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، یہ ایک عالمی روایت ہے، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے اس اختیار سے دستبردار ہو کر ایک مضبوط جمہوری مثال قائم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالتوں کا تصور نیا نہیں بلکہ چارٹر آف ڈیموکریسی کے وقت سے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اے این پی کی جانب سے اس پر اتفاق رائے موجود ہے، اب یہ بحث منطقی انجام تک پہنچ چکی ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں بنائے گئے آئینی بنچ کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں، جس سے عدالتوں کا ورک لوڈ کم ہوا اور کارکردگی بہتر ہوئی۔ آئین ایک زندہ دستاویز ہے، جو ارتقائی عمل سے گزرتی رہتی ہے، اب تک 27 ترامیم ہوچکی ہیں جو خوش آئند ہیں۔







