چنیوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم پارلیمنٹ کا حق ہیں، اور ججز نے دستور کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی جج کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خود کو سیاسی احتجاج کا حصہ بنائے۔ جن افراد نے استعفے دیے، وہ اپنے ذاتی مقاصد کے تحت دیے گئے ہیں۔
مشیرِ وزیراعظم نے کہا کہ بلدیاتی نظام، این ایف سی اور صحت کے معاملات پر حکومت میں تفصیلی مشاورت جاری ہے، اور اگر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوا تو 28ویں آئینی ترمیم کو جلد پیش کرکے منظور کیا جائے گا۔
رانا ثنااللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ مجوزہ ترمیم عوامی مسائل کے حل اور انتظامی ڈھانچے میں بہتری سے متعلق ہوگی۔







