کراچی کے علاقے لیاری میں اسپینسرز آئی اسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاست دانوں اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں نفرت اور تقسیم پیدا کرنے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری عروج پر ہے اور عوام کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کیا جائے اور انہیں بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور سندھ کے عوام اور منتخب نمائندے اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے معاملے پر متعدد مرتبہ بحث ہو چکی ہے، تاہم سندھ کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق یہاں کے عوام کو حاصل ہے۔ سندھ اسمبلی اس معاملے پر اپنا فیصلہ دے چکی ہے، اس لیے اب اس بحث کو ختم ہوجانا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے اور وفاقی حکومت کو شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کے نمائندے کراچی میں عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر کام کریں تو شہر کے عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ
بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور بڑھتے ہوئے بلوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ملک بھر کا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور بجلی کے بھاری بل عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ پورے لیاری کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا سکے تاکہ علاقے کے لوگوں کو کم قیمت بجلی فراہم ہو۔ سندھ حکومت عوام کو شمسی توانائی کی سہولت دینے کے لیے کوششیں کر رہی ہے، پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندے وہ اس مسئلے کے حل کے لیے کام کریں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صحت کی سہولتیں فراہم کرنا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے، کیونکہ مہنگا علاج عام شہریوں کے لیے مشکلات بڑھا دیتا ہے۔ عوام کو بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی اور معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔







