اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں بحران پیدا ہوا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جب کہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ صورت حال کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ حکومت کو اندازہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں، اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی فیول ریلیف اسکیم سے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں اور اس کا دائرہ کار بڑھانے پر بھی غور کیا جائے گا۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پائیدار راستہ اختیار کرنا ہوگا اور حکومت دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے عام آدمی کی مشکلات کم کرنا چاہتی ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم سے ملاقات میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں، جن پر غور کرنے کے لیے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں حکومت اور جماعت اسلامی کے تین، تین نمائندے شامل ہوں گے، جو تجاویز کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دیں گے۔ آئندہ بجٹ میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کی تجاویز کو سنجیدگی سے سنا ہے اور دونوں فریق مل کر ایسے اقدامات پر غور کریں گے جن سے عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ خطے میں تنازع ختم ہو تاکہ توانائی کی عالمی قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہوسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی بحران میں حکومت کوئی غیر ذمہ دارانہ قدم نہیں اٹھانا چاہتی، بلکہ دستیاب وسائل اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت عوام کو پیٹرول پر ریلیف فراہم کر رہی ہے اور اس سلسلے کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ایک کروڑ 27 لاکھ افراد کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، جب کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد 2 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کی اس تجویز کو اہمیت دیتی ہے کہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملنا چاہیے۔ حکومت جماعت اسلامی کی تجاویز پر خلوص نیت سے غور کرے گی اور امید ہے کہ جماعت اسلامی موجودہ صورت حال میں عوام کو ریلیف دینے کی حکومتی کوششوں میں تعاون کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور ملک کے اندر بھی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔







