حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ احتجاج کے دوران اہم شاہراہیں اور اضلاع کو ملانے والے راستے بند کیے جائیں گے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ موٹر سائیکلوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں اور پرامن انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور صرف ایمبولینسز سمیت ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ دیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کرے، بصورت دیگر پیدا ہونے والی صورت حال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ احتجاج کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ مہنگائی، اضافی ٹیکسوں اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے خلاف ہر پاکستانی کی آواز ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے، جبکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیے جانے والے آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ظالمانہ معاشی پالیسیوں کی واپسی تک جماعت اسلامی کی پرامن عوامی تحریک جاری رہے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید بتایا کہ 6 اگست کو لاہور کے وحدت روڈ پر جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی جانب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جس سے وہ خصوصی خطاب بھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں سے شدید متاثر ہیں، اس لیے حکومت کو عوامی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔







