مسٹر بیسٹ کے مطابق یہ ان کی جانب سے کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا انسانی فلاحی منصوبہ ہے، جس کا مقصد سیکڑوں مقامی بچوں اور ان کے خاندانوں کو بہتر رہائش، صاف پانی اور تعلیم سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
ابنا ڈاکوا نامی یہ گاؤں ایک خالی میدان میں تعمیر کیا گیا۔ منصوبے کی تیاری میں تقریباً ایک سال لگا، جبکہ گاؤں کی عملی تعمیر کا کام 8 ماہ میں مکمل کیا گیا۔
نئی بستی میں خاندانوں کے لیے رہائشی سہولیات کے علاوہ اساتذہ کے لیے 10 مفت گھر، ایک طبی کلینک، کمیونٹی مارکیٹ اور 300 سے زائد طلبہ کے لیے اسکول بھی تعمیر کیا گیا ہے۔
منصوبے کا ایک اہم مقصد بچوں کو کوکو فارموں پر کام کرنے کے بجائے اسکول بھیجنا ہے۔ اس سلسلے میں راک فیلر فاؤنڈیشن کے تعاون سے اگلے 5 سال تک گاؤں کے ہر طالب علم کو روزانہ مفت کھانا فراہم کیا جائے گا۔
گاؤں میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گلوبل انرجی الائنس کے ذریعے آف گرڈ سولر سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں گیلن صاف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھنے والے دو واٹر ٹاورز تعمیر کیے گئے ہیں، جبکہ مقامی ضروریات اور روزگار کے لیے مچھلیوں کے ٹینکوں پر مشتمل ایک فارم بھی قائم کیا گیا ہے۔
مسٹر بیسٹ نے اپنے یوٹیوب چینل پر جاری کی گئی ویڈیو میں گاؤں کی منصوبہ بندی اور تعمیر کے مختلف مراحل بھی دکھائے۔ ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد صرف رہائش فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کو مزدوری سے نکال کر انہیں تعلیم کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں بڑی چاکلیٹ کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ کوکو کی خریداری اور سپلائی کے نظام میں بچوں کی مزدوری کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔
مسٹر بیسٹ کا کہنا تھا کہ اگر صارفین اس مسئلے پر توجہ نہیں دیں گے تو بڑی چاکلیٹ کمپنیاں بھی بچوں کی مزدوری کے معاملے کو نظر انداز کرتی رہیں گی۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ایسی مصنوعات کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کریں جن کی تیاری میں بچوں کے استحصال کا خدشہ ہو۔
یہ بڑے پیمانے کا منصوبہ 1 بلین فالورز سمٹ، ورکی فاؤنڈیشن اور محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز کے اشتراک سے مکمل کیا گیا۔
منصوبے کے تحت 1 بلین ایکٹس آف کائنس مہم کے حصے کے طور پر دنیا کے مختلف ممالک سے 10 تخلیق کاروں کو بھی منتخب کیا گیا، جنہوں نے گھانا پہنچ کر مسٹر بیسٹ کے ساتھ مل کر گاؤں کی تعمیر میں حصہ لیا۔
مسٹر بیسٹ نے اپنے فیسٹ ایبلز برانڈ کے ذریعے بھی کوکو کی سپلائی کے معاملے کو اجاگر کیا ہے اور بڑی چاکلیٹ کمپنیوں کی جانب سے کوکو حاصل کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔
گھانا میں تعمیر کیا گیا یہ گاؤں اسی مہم کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بچوں کو کوکو فارموں پر مزدوری سے دور رکھ کر انہیں تعلیم، رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔







