کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی دھرنے کے شرکا، خواتین اور نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا پوری استقامت کے ساتھ جاری رہا اور یہ پورے کراچی کی آواز بن گیا۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے میں تاجر، صنعت کار، طلبہ، علما، شعرا، ادیب، کھلاڑی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے اور اپنے مسائل بیان کیے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے گورنر ہاؤسز کے اخراجات اور اشرافیہ کے لیے مختص مراکز پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی اور مفت تعلیم کے مرکز میں تبدیل ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کلب، جم خانہ، گالف کلب اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے کلب اشرافیہ کے الگ طرز زندگی کی علامت ہیں، جہاں گالف گراؤنڈ، سوئمنگ پول اور ٹینس کورٹ سمیت دیگر سہولیات موجود ہیں، جب کہ عام شہری بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ متوسط طبقے کے والدین بچوں کی فیس، بجلی کے بل، مکان کے کرائے، علاج اور دو وقت کی روٹی میں سے انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے حکومت کی پیٹرولیم پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ پیٹرول پر مختلف ٹیکسز اور لیویز کے ذریعے عوام پر بھاری بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو صرف عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور کسٹم ڈیوٹی سمیت مختلف مدات میں رقم وصول کی جا رہی ہے۔

انہوں نے ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، شوگر، آٹا اور آئی پی پیز سمیت مختلف شعبوں میں ’مافیا‘ اور کارٹلز کی موجودگی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے پاکستان کے معاشی نظام میں سود کے خاتمے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پر مغربی معاشی اصول جوں کے توں لاگو نہیں کیے جا سکتے اور پالیسی ریٹ میں کمی سے لازماً مہنگائی بڑھنے کا دعویٰ درست نہیں۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ سود پر مبنی معاشی نظام کو تبدیل کرنا ہوگا اور اگر سود فوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا تو اسے مرحلہ وار کم کیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے آئین میں سود کے خاتمے سے متعلق مقررہ ہدف پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ اور پنجاب میں تعلیمی نظام کی صورتحال پر بھی تنقید کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سندھ کے متعدد سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات موجود نہیں، جب کہ پینے کے صاف پانی سمیت دیگر ضروری سہولتوں کا فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ غریبوں کے بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جب کہ حکمران طبقے کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

پنجاب کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور متعدد سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک ایک یا دو دن کی نہیں بلکہ عوام کو ریلیف ملنے تک جاری رہے گی۔ پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران عوام میں اس معاملے سے متعلق شعور پیدا ہوا ہے اور جماعت اسلامی اس تحریک کو مزید آگے بڑھائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے اسلام آباد کے لیے تاریخی ٹرین مارچ شروع ہوگا، جو کراچی سے روہڑی، پھر ملتان اور اس کے بعد اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں اور ملک کے مختلف شہروں سے کارکن اسلام آباد کی جانب مارچ میں شریک ہوں گے۔

جماعت اسلامی کے مطابق کراچی سے ٹرین مارچ 20 ستمبر کو روانہ ہونا ہے، جب کہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی قافلے اسلام آباد کی طرف جائیں گے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد بھی عوامی جدوجہد ختم نہیں ہوگی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔