پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور تمام اضلاع میں ضلعی قیادت اور منتخب نمائندوں کی سربراہی میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام احتجاج کیا جائے گا، جس کے لیے تاجر تنظیموں اور ٹرانسپورٹرز کی حمایت بھی حاصل کر لی گئی ہے۔
پشاور میں احتجاج کہاں ہوگا؟
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے بتایا کہ 8 فروری کے احتجاج کی منصوبہ بندی کئی دنوں سے جاری تھی اور صوبائی قیادت اور کابینہ کے اراکین خود اس مہم میں متحرک رہے۔ ان کے مطابق پشاور میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا اور شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہوگا۔
اکرام کھٹانہ کے مطابق پشاور میں احتجاج نشتر آباد اور ہشتنگری سے شروع ہوگا۔ کارکنان ہشتنگری گیٹ کے سامنے جمع ہوں گے، جہاں سے ریلی چوک یادگار تک نکالی جائے گی۔ چوک یادگار پہنچنے کے بعد پارٹی قائدین خطاب بھی کریں گے۔
تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی حمایت
پی ٹی آئی پشاور کے رہنما عرفان سلیم نے بتایا کہ احتجاج کے لیے شہر بھر میں مہم چلائی گئی اور تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں کی گئیں، جنہوں نے 8 فروری کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق کارخانو مارکیٹ سمیت دیگر کاروباری علاقوں میں بھی شٹر ڈاؤن کی حمایت حاصل کی گئی ہے۔
عرفان سلیم کا کہنا تھا کہ پہیہ جام کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے اور احتجاج کے ذریعے یہ پیغام دیا جائے گا کہ عوام کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کے مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے۔
اکرام کھٹانہ نے کہا کہ صوبے بھر میں احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور شٹر ڈاؤن و پہیہ جام کسی بھی قسم کے تشدد کے بغیر کیا جائے گا۔
ملک گیر احتجاج کا اعلان
خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ 8 فروری کو احتجاج صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے ملک میں احتجاج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان بڑی تعداد میں اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج میں شریک ہوں گے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے لے کر خیبر تک عوام سڑکوں پر نکل کر عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف آواز بلند کریں گے۔
کن اضلاع میں احتجاج ہوگا؟
اکرام کھٹانہ کے مطابق پشاور کے ساتھ ساتھ صوبے کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کہیں ریلیاں ہوں گی، کہیں مظاہرے اور کہیں احتجاجی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک احتجاج کی مکمل تیاری کر لی ہے۔ مردان، نوشہرہ، چارسدہ، دیر، صوابی، ہزارہ ڈویژن، مالاکنڈ ڈویژن اور جنوبی اضلاع میں بھی احتجاجی سرگرمیاں ہوں گی۔
پارٹی کے اندرونی تحفظات
دوسری جانب پارٹی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی اپنے احتجاجی فیصلوں میں مکمل طور پر آزاد نہیں اور اہم فیصلوں کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی قیادت کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔
رہنما کے مطابق مبینہ دھاندلی کا سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہوا ہے، تاہم احتجاجی حکمت عملی اور اعلان کے فیصلے دیگر قیادت کے ہاتھ میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنان کی جانب سے تیاریاں کی جا رہی ہیں اور ممکنہ تشدد کا سامنا بھی کارکنان کو ہی کرنا پڑے گا، لیکن فیصلے دوسروں کی مرضی سے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر بے چینی پائی جاتی ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے کی صورت میں کارکنان میں مایوسی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق 8 فروری کو کارکنان سڑکوں پر ضرور نکلیں گے، تاہم احتجاج کے نتیجے میں کسی ٹھوس پیش رفت کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔







