ارتھ آور کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ رات 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک ایک گھنٹے کے لیے غیر ضروری بجلی اور روشنیاں بند رکھیں یا کم سے کم استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے بھرپور اس دور میں ارتھ آور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ رواں سال یہ دن ’زمین کے لیے ایک گھنٹہ وقف کریں‘ کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، توانائی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی بڑھانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام محض ایک علامتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک عالمی لمحۂ فکر ہے جو پائیدار اور مضبوط ماحولیاتی مستقبل کے لیے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ارتھ آور کا پیغام صرف لائٹس بند کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر فرد اور کمیونٹی کو ماحول دوست طرز عمل اپنانے کی ترغیب دیتا ہے، اور ایسے چھوٹے اقدامات مل کر بڑی مثبت تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے آج کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کریں گے، اور پاکستان کو اس حوالے سے ایک سنجیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم یہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدید سیلاب، موسمی شدت اور خشک سالی جیسے خطرات نہ صرف روزمرہ زندگی بلکہ خوراک اور پانی کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی چیلنج بن رہے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت موسمیاتی مزاحمت پر مبنی ترقیاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم کے مطابق اس سلسلے میں پانی کے نظام اور زرعی شعبے میں اصلاحات، ماحول دوست توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری، گرین ٹیکنالوجی کا فروغ، شہری نظام کی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے عملی منصوبوں میں اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام، لیونگ انڈس انیشی ایٹو، ریچارج پاکستان اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جدید وارننگ سسٹمز کی تنصیب شامل ہے۔

آخر میں انہوں نے عوام کو دعوت دی کہ وہ اس عالمی مہم میں بھرپور حصہ لیں اور ماحول دوست طرز عمل کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا کر ایک محفوظ اور پائیدار پاکستان کے قیام میں کردار ادا کریں۔