اس پیش رفت کے بعد قومی فضائی کمپنی مکمل طور پر نجی شعبے کے کنٹرول میں آ جائے گی۔

یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں کنسورشیم نے 135 ارب روپے کے عوض پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔ باقی حصص کی خریداری کے بعد ادارے کی ملکیت اور انتظامی اختیار مکمل طور پر نجی سرمایہ کاروں کو منتقل ہو جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد خسارے میں چلنے والی فضائی کمپنی کی ازسرِنو تنظیم، بیڑے میں توسیع اور مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے ذریعے اسے منافع بخش بنانا بتایا گیا ہے۔ بحالی کے منصوبے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے کنسورشیم مکمل فیصلہ سازی کا اختیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد علی حبیب نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اپریل کے اختتام تک انتظامی تبدیلیاں نافذ کر دی جائیں گی، جس کے بعد کمپنی مکمل طور پر نجی ادارے کے طور پر کام کرے گی اور حکومت کی جانب سے نامزد ارکان شامل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق سرپرستی میں تبدیلی اپریل کے آخر یا مئی کے آغاز میں متوقع ہے۔

حکومت نے کنسورشیم کو باقی حصص، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے ہے، خریدنے کے لیے 90 دن کی مہلت دی ہے اور اس کی آخری تاریخ اپریل کے اختتام پر مقرر کی گئی ہے۔ جنوری میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ادائیگی کے لیے 12 ماہ کی مدت رکھی گئی ہے، جس سے خریداری کا عمل قابلِ عمل بنایا گیا ہے۔

کامیاب کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر (34.1 فیصد)، فوجی فرٹیلائزر کمپنی (33.9 فیصد)، لیک سٹی (16 فیصد) اور سٹی اسکول بمع اے کے ڈی گروپ (16 فیصد) شامل ہیں۔

نئی انتظامیہ کو 125 ارب روپے کی مالی معاونت دستیاب ہوگی، جس کے ذریعے اصلاحاتی اقدامات نافذ کیے جائیں گے اور قومی فضائی کمپنی کی تنظیمِ نو کے لیے سرمایہ فراہم کیا جائے گا۔

پی آئی اے کا قیام 1955 میں عمل میں آیا تھا، جبکہ 2016 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کنورژن ایکٹ کے تحت اسے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا گیا۔ مئی 2024 میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی منظوری کے بعد کمپنی کو حصص بازار سے ڈی لسٹ کر دیا گیا اور اسے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کا مکمل ذیلی ادارہ بنا دیا گیا، جو مارچ 2024 میں نجکاری کے عمل کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی تھی۔