نجکاری کمیشن کے مطابق بولی کے اس مرحلے میں لکی کنسورشیم 134 ارب روپے کی بولی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
اس سے قبل بولی کے پہلے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے 101.5 ارب روپے کی بولی دی تھی، جب کہ ائیربلیو کی جانب سے 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی سامنے آئی تھی۔
پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ بولی عارف حبیب کنسورشیم کی جانب سے 115 ارب روپے دی گئی تھی۔
بولی کے دوسرے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے اپنی بولی بڑھا کر 120.25 ارب روپے کر دی، جب کہ عارف حبیب کنسورشیم نے 121 ارب روپے کی نئی بولی جمع کروائی۔
بعد ازاں تیسرے مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی حتمی بولی دے کر کامیابی حاصل کر لی۔
اس موقع پر مشیرِ نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا کہ قومی ائیرلائن کی نجکاری حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد قومی ائیرلائن کو محض فروخت کرنا نہیں بلکہ اسے ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی اور ادارے کی کارکردگی میں بہتری ممکن ہو سکے گی۔
مشیرِ نجکاری کمیشن کے مطابق بولی سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد حصہ قومی ائیرلائن کی بہتری اور بحالی پر خرچ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت چاہتی ہے کہ پی آئی اے ماضی کی طرح ایک مضبوط اور منافع بخش ادارہ بنے۔
محمد علی نے مزید کہا کہ ادائیگی کے طریقۂ کار کے تحت دو تہائی رقم ابتدائی مرحلے میں، جب کہ ایک تہائی رقم بعد ازاں ادا کی جا سکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بولی کے بعد بڈرز کو دو مزید پارٹنرز کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی اجازت بھی دی ہے تاکہ سرمایہ کاری اور انتظامی صلاحیت میں مزید بہتری لائی جا سکے۔







